Jasarat News:
2025-11-29@14:50:54 GMT

’’736 دن بعد آزادی: دنیا بدلی یا کہانی؟‘‘

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251015-03-6

 

محمد مطاہر خان

غزہ کی سرزمین ایک بار پھر عالمی خبروں کا مرکز بن چکی ہے۔ دو سال، یعنی 736 دن بعد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اگرچہ امن کی جانب ایک امید افزا قدم سمجھی جا رہی ہے، مگر تل ابیب اور یروشلم میں عوامی غصے کا لاوا پھٹ پڑا ہے۔ اسرائیلی شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ معاہدہ آج ممکن تھا تو پہلے کیوں نہیں؟ یہ احتجاج محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک سیاسی زلزلہ ہے، جس نے نیتن یاہو کی حکومت کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، حماس نے ریڈ کراس کی نگرانی میں 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، جبکہ 28 لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کی گئیں۔ اس کے بدلے میں 1,716 فلسطینی قیدیوں کو آزادی ملی، جن میں خواتین، بچے اور عمر قید کے اسیر شامل ہیں۔ اس تبادلے کے مناظر نہایت جذباتی تھے غزہ میں قیدیوں کا فقید المثال استقبال کیا گیا، جبکہ اسرائیل میں خوشی کے بجائے غصے اور بے چینی کی فضا چھا گئی۔ تل ابیب کی سڑکوں پر احتجاجی نعروں کی گونج سنائی دی۔ عوام نے وزیر ِ اعظم نیتن یاہو سے سوال کیا: ’’یہ سب اتنی دیر سے کیوں ہوا؟ اگر معاہدہ پہلے ہو جاتا تو ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں‘‘۔ نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی اور شدید عوامی دباؤ نے اسرائیلی حکومت کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔

غزہ امن معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق ایلچیوں جیرڈ کْشنر اور اسٹیو وٹکوف کا کردار ایک بار پھر زیر ِ بحث ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی حکومت کی ’’تاخیری پالیسی‘‘ کی حمایت کی اور امن مذاکرات کو ذاتی شہرت کا ذریعہ بنایا۔ عوامی دباؤ کے سامنے ٹرمپ کے نمائندے بھی تنقید سے نہ بچ سکے۔ ٹرمپ کی حالیہ تقریر میں انہوں نے کہا کہ ’’غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہے، یہ ایک نیا آغاز ہے‘‘۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ اختتام ہے یا محض ایک وقفہ؟ کیونکہ اسی روز اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے میں چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔ اس دوہرے رویے نے عالمی برادری کو شکوک میں ڈال دیا ہے کہ کیا اسرائیل امن چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ شرم الشیخ میں ہونے والے امن معاہدے پر امریکا، ترکیہ، مصر اور قطر کے سربراہان نے دستخط کیے۔ وزیر ِ اعظم شہباز شریف کی شرکت نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو ایک بار پھر نمایاں کیا کہ خطے کا پائیدار امن صرف فلسطینی ریاست کے قیام سے ممکن ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، مگر ان کا بیان واضح تھا: ’’اب وقت ہے کہ فریقین اپنے وعدوں پر عمل کریں، ورنہ یہ امن وقتی ثابت ہوگا‘‘۔ گوتریس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی لاشوں کو عزت و احترام کے ساتھ واپس کیا جائے۔

غزہ میں رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کے مناظر آنکھوں کو نم کر دینے والے تھے۔ نصر اسپتال کے صحن میں جب رہائی پانے والی خواتین نے اپنے بچوں کو گلے لگایا تو یہ منظر انسانی احساسات کی گہرائی کا مظہر تھا۔ مگر سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کیا یہ رہائی پائیدار امن کی ضامن ہے؟ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے واضح کیا ہے کہ ’’یہ تبادلہ ایک انسانی بنیاد پر کیا گیا، نہ کہ اسرائیل کے دبائو پر‘‘۔ حماس کے ترجمان کے مطابق، اگر اسرائیل دوبارہ جارحیت کرے تو فلسطینی مزاحمت دوبارہ سر اٹھائے گی۔ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیلی سیاست میں ایک نیا بحران جنم لے چکا ہے۔ نیتن یاہو کو نہ صرف حزبِ اختلاف بلکہ اپنی ہی پارٹی کے ارکان کی جانب سے بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ احتجاج ’’سیاسی زوال‘‘ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کی تقریر کے دوران دو ارکان کا فلسطینیوں کے حق میں احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیلی معاشرہ اندر سے منقسم ہو چکا ہے۔ ایک طبقہ مسلسل جنگ اور قبضے کی پالیسی کا حامی ہے جبکہ دوسرا امن، انصاف اور فلسطینی ریاست کے قیام کو ضروری سمجھتا ہے۔

غزہ امن معاہدے کے باوجود مغربی ممالک کے رویے میں تضاد برقرار ہے۔ امریکا اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرتا رہتا ہے، جبکہ یورپی ممالک انسانی حقوق کے بیانات تک محدود ہیں۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بجا طور پر کہا کہ ’’ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ امن منصوبہ صرف غزہ تک محدود ہے، فلسطینی ریاست کے قیام پر ابہام موجود ہے‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک عالمی طاقتیں مسئلہ فلسطین کو انصاف کی بنیاد پر حل نہیں کرتیں، تب تک کوئی بھی امن معاہدہ عارضی ہوگا۔ یرغمالیوں کی رہائی کا انسانی پہلو سب سے اہم ہے۔ چاہے وہ اسرائیلی خاندان ہوں یا فلسطینی، دونوں نے اپنے پیاروں کو کھونے کا درد سہا ہے۔ غزہ میں تباہ حال عمارتوں اور یتیم بچوں کی چیخیں انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ایک فلسطینی ماں نے کہا، ’’میرے بیٹے کو 12 سال بعد واپس پایا ہے، مگر میرا گھر، میرا شہر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے‘‘۔ یہ جملہ کسی سیاسی نعرے سے زیادہ گہرا ہے۔ یہ اس جنگ کی اصل قیمت ہے جو طاقت، انا اور مفاد کے نام پر انسانیت سے وصول کی جا رہی ہے۔

736 دن بعد یرغمالیوں کی رہائی یقینا ایک بڑی پیش رفت ہے، مگر یہ تب ہی پائیدار ثابت ہوگی جب انصاف کو فوقیت دی جائے گی۔ جنگ کا خاتمہ صرف اس وقت ممکن ہے جب اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کرے، قبضہ ختم کرے اور انسانی مساوات کے اصولوں پر عمل کرے۔ دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ امن توپ و تفنگ سے نہیں، بلکہ ضمیر کی بیداری سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں، تو انہیں طاقتور کے نہیں، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ غزہ میں قیدیوں کے تبادلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات اور انسانی ہمدردی سے ہی مسائل حل ہوتے ہیں۔ مگر اسرائیلی قیادت کی تاخیر، مغربی دنیا کی منافقت اور عالمی اداروں کی بے بسی نے اس حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب فیصلہ عالمی ضمیر کو کرنا ہے آیا وہ انصاف کے ساتھ کھڑا ہوگا یا مفاد کے ساتھ۔

محمد مطاہر خان سنگھانوی.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کے قیام یرغمالیوں کی رہائی ایک بار پھر نیتن یاہو کے ساتھ

پڑھیں:

اسرائیلی فوج نے سفاکیت کی انتہا کردی؛ 2نہتے فلسطینیوں کو بھون ڈالا، وڈیو وائرل

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ /تل ابیب /بیروت /نیویارک /ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ کے بعد اسرائیلی فوج نے اب مغربی کنارے کو بھی اپنی سفاکیت، جارحیت اور مشقِ جنگ کا نیا مرکز بنالیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے اہلکار سرچ آپریشن کے لیے ایک عمارت پر پہنچے تھے جس کے گیراج سے 2 فلسطینی نوجوان ہاتھ اُٹھائے باہر آئے اور دونوں کے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا۔ صہیونی سیکورٹی فورسز کے جارح مزاج اہلکاروں نے دونوں نوجوانوں کو زمین پر بٹھایا اور پوچھ گچھ کے بعد دوبارہ گیراج میں جانے کی ہدایت کی۔ جیسے ہی نوجوان اندر جانے کے لیے مڑے۔ گولیوں کی ترتراہٹ سے فضا گونج اُٹھی۔ جس کے دوران دونوں فلسطینی نوجوان گولیاں لگنے سے موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ سامنے کی عمارت سے کسی نے اس دردناک لمحے کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال کر اسرائیلی سیکورٹی فورسز کا چہرہ بے نقاب کردیا۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق شہید ہونے والوں کی شناخت 26 سالہ محمود قاسم عبداللہ اور 37 سالہ یوسف عصاصہ کے نام سے ہوئی۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ رفح میں سرنگوں میں پھنسے 9 جنگجو ہلاک کر دیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے باوجود نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ دنیا کو بیوقوف نہیں بنانا چاہیے، اسرائیل غزہ میں اپنی ظالمانہ پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے 136 بچوں سمیت 374 فلسطینی شہید کیے۔ اسرائیل نے انسانی امداد اور بنیادی ضروریات تک رسائی محدود کی۔ روس نے فلسطین کی حق خودارادیت کو تسلیم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کر دیا۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکی منصوبہ جسے “پیس کونسل” اور “انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس” کے قیام کے لیے تیار کیا گیا فلسطینی حکام کی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا‘ قرارداد 2803 نہ تو فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن و سلامتی کے قیام میں مددگار ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اور فلسطینی اتھارٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا اور عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے ملوث اہلکاروں کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کو مار دینا چاہیے۔حماس نے غزہ معاہدے کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے پہلے مرحلے کی تمام شرائط مکمل طور پر پوری کر دی ہیں، جب کہ اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسرے مرحلے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔عرب میڈیا سے گفتگو میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ رفح میں محصور عسکریت پسندوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اسلحہ حوالے کرنے کے معاملے پر حماس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف فلسطینی قومی مذاکرات اور داخلی مشاورت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر اسرائیلی قیادت میں اختلافات ابھر رہے ہیں۔ اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کا صبر اسرائیل کے رویے سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام اس بات پر قائم ہیں کہ باقی ماندہ یرغمالیوں کی لاشیں ملنے تک وہ دوسرے مرحلے میں داخل نہیں ہوں گے، جب کہ رفح کی سرنگوں میں موجود حماس کے ارکان کا معاملہ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

غزہ :قابض اسرائیلی فوجی نہتے فلسطینی نوجوانوں پر فائرنگ کررہے ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں آج فلسطینی عوام کیساتھ اظہارِ یکجہتی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جارہا ہے۔
  • اسرائیل کا غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا ضروری ہے: پاکستان
  • فلسطینی عوام سے یکجہتی کا دن، وزیرِاعظم اور صدرِمملکت کا پیغام
  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے
  • اسرائیلی فوج نے سفاکیت کی انتہا کردی؛ 2نہتے فلسطینیوں کو بھون ڈالا، وڈیو وائرل
  • اسرائیلی فوج کی سفاکیت: نہتے فلسطینی نوجوانوں کو بےرحمی سے بھون ڈالا
  • اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں نیا آپریشن شروع کر دیا
  • اسرائیل کو مزید یرغمالی کی لاش سونپ دی گئی، حماس کو 15 فلسطینی کی میتیں موصول
  • ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے؛ حماس کو 15 فلسطینی کی میتیں موصول