Jasarat News:
2026-06-03@06:29:58 GMT

’’736 دن بعد آزادی: دنیا بدلی یا کہانی؟‘‘

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251015-03-6

 

محمد مطاہر خان

غزہ کی سرزمین ایک بار پھر عالمی خبروں کا مرکز بن چکی ہے۔ دو سال، یعنی 736 دن بعد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اگرچہ امن کی جانب ایک امید افزا قدم سمجھی جا رہی ہے، مگر تل ابیب اور یروشلم میں عوامی غصے کا لاوا پھٹ پڑا ہے۔ اسرائیلی شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ معاہدہ آج ممکن تھا تو پہلے کیوں نہیں؟ یہ احتجاج محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک سیاسی زلزلہ ہے، جس نے نیتن یاہو کی حکومت کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، حماس نے ریڈ کراس کی نگرانی میں 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، جبکہ 28 لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کی گئیں۔ اس کے بدلے میں 1,716 فلسطینی قیدیوں کو آزادی ملی، جن میں خواتین، بچے اور عمر قید کے اسیر شامل ہیں۔ اس تبادلے کے مناظر نہایت جذباتی تھے غزہ میں قیدیوں کا فقید المثال استقبال کیا گیا، جبکہ اسرائیل میں خوشی کے بجائے غصے اور بے چینی کی فضا چھا گئی۔ تل ابیب کی سڑکوں پر احتجاجی نعروں کی گونج سنائی دی۔ عوام نے وزیر ِ اعظم نیتن یاہو سے سوال کیا: ’’یہ سب اتنی دیر سے کیوں ہوا؟ اگر معاہدہ پہلے ہو جاتا تو ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں‘‘۔ نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی اور شدید عوامی دباؤ نے اسرائیلی حکومت کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔

غزہ امن معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق ایلچیوں جیرڈ کْشنر اور اسٹیو وٹکوف کا کردار ایک بار پھر زیر ِ بحث ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی حکومت کی ’’تاخیری پالیسی‘‘ کی حمایت کی اور امن مذاکرات کو ذاتی شہرت کا ذریعہ بنایا۔ عوامی دباؤ کے سامنے ٹرمپ کے نمائندے بھی تنقید سے نہ بچ سکے۔ ٹرمپ کی حالیہ تقریر میں انہوں نے کہا کہ ’’غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہے، یہ ایک نیا آغاز ہے‘‘۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ اختتام ہے یا محض ایک وقفہ؟ کیونکہ اسی روز اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے میں چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔ اس دوہرے رویے نے عالمی برادری کو شکوک میں ڈال دیا ہے کہ کیا اسرائیل امن چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ شرم الشیخ میں ہونے والے امن معاہدے پر امریکا، ترکیہ، مصر اور قطر کے سربراہان نے دستخط کیے۔ وزیر ِ اعظم شہباز شریف کی شرکت نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو ایک بار پھر نمایاں کیا کہ خطے کا پائیدار امن صرف فلسطینی ریاست کے قیام سے ممکن ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، مگر ان کا بیان واضح تھا: ’’اب وقت ہے کہ فریقین اپنے وعدوں پر عمل کریں، ورنہ یہ امن وقتی ثابت ہوگا‘‘۔ گوتریس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی لاشوں کو عزت و احترام کے ساتھ واپس کیا جائے۔

غزہ میں رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کے مناظر آنکھوں کو نم کر دینے والے تھے۔ نصر اسپتال کے صحن میں جب رہائی پانے والی خواتین نے اپنے بچوں کو گلے لگایا تو یہ منظر انسانی احساسات کی گہرائی کا مظہر تھا۔ مگر سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کیا یہ رہائی پائیدار امن کی ضامن ہے؟ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے واضح کیا ہے کہ ’’یہ تبادلہ ایک انسانی بنیاد پر کیا گیا، نہ کہ اسرائیل کے دبائو پر‘‘۔ حماس کے ترجمان کے مطابق، اگر اسرائیل دوبارہ جارحیت کرے تو فلسطینی مزاحمت دوبارہ سر اٹھائے گی۔ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیلی سیاست میں ایک نیا بحران جنم لے چکا ہے۔ نیتن یاہو کو نہ صرف حزبِ اختلاف بلکہ اپنی ہی پارٹی کے ارکان کی جانب سے بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ احتجاج ’’سیاسی زوال‘‘ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کی تقریر کے دوران دو ارکان کا فلسطینیوں کے حق میں احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیلی معاشرہ اندر سے منقسم ہو چکا ہے۔ ایک طبقہ مسلسل جنگ اور قبضے کی پالیسی کا حامی ہے جبکہ دوسرا امن، انصاف اور فلسطینی ریاست کے قیام کو ضروری سمجھتا ہے۔

غزہ امن معاہدے کے باوجود مغربی ممالک کے رویے میں تضاد برقرار ہے۔ امریکا اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرتا رہتا ہے، جبکہ یورپی ممالک انسانی حقوق کے بیانات تک محدود ہیں۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بجا طور پر کہا کہ ’’ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ امن منصوبہ صرف غزہ تک محدود ہے، فلسطینی ریاست کے قیام پر ابہام موجود ہے‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک عالمی طاقتیں مسئلہ فلسطین کو انصاف کی بنیاد پر حل نہیں کرتیں، تب تک کوئی بھی امن معاہدہ عارضی ہوگا۔ یرغمالیوں کی رہائی کا انسانی پہلو سب سے اہم ہے۔ چاہے وہ اسرائیلی خاندان ہوں یا فلسطینی، دونوں نے اپنے پیاروں کو کھونے کا درد سہا ہے۔ غزہ میں تباہ حال عمارتوں اور یتیم بچوں کی چیخیں انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ایک فلسطینی ماں نے کہا، ’’میرے بیٹے کو 12 سال بعد واپس پایا ہے، مگر میرا گھر، میرا شہر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے‘‘۔ یہ جملہ کسی سیاسی نعرے سے زیادہ گہرا ہے۔ یہ اس جنگ کی اصل قیمت ہے جو طاقت، انا اور مفاد کے نام پر انسانیت سے وصول کی جا رہی ہے۔

736 دن بعد یرغمالیوں کی رہائی یقینا ایک بڑی پیش رفت ہے، مگر یہ تب ہی پائیدار ثابت ہوگی جب انصاف کو فوقیت دی جائے گی۔ جنگ کا خاتمہ صرف اس وقت ممکن ہے جب اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کرے، قبضہ ختم کرے اور انسانی مساوات کے اصولوں پر عمل کرے۔ دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ امن توپ و تفنگ سے نہیں، بلکہ ضمیر کی بیداری سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں، تو انہیں طاقتور کے نہیں، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ غزہ میں قیدیوں کے تبادلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات اور انسانی ہمدردی سے ہی مسائل حل ہوتے ہیں۔ مگر اسرائیلی قیادت کی تاخیر، مغربی دنیا کی منافقت اور عالمی اداروں کی بے بسی نے اس حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب فیصلہ عالمی ضمیر کو کرنا ہے آیا وہ انصاف کے ساتھ کھڑا ہوگا یا مفاد کے ساتھ۔

محمد مطاہر خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کے قیام یرغمالیوں کی رہائی ایک بار پھر نیتن یاہو کے ساتھ

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید