غزہ، خاندانوں کی آبائی علاقوں میں واپسی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ کی تباہ حال سرزمین پر مہینوں سے جاری اسرائی کی دہشت گردی کے بعد بالآخر امن کی ایک معمولی کرن نمودار ہوئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی توثیق اور افواج کے جزوی انخلا کے بعد بے گھر فلسطینی خاندان شمالی غزہ کی جانب واپسی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ یہ منظر ایک طرف امید کی جھلک دکھاتا ہے، تو دوسری طرف اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جنگ کے زخم بہت گہرے ہیں، اور حقیقی امن ابھی بہت دور ہے۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق مغربی اور مرکزی غزہ کے علاقوں سے بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندان اب غزہ شہر اور شمالی علاقوں کی سمت واپس جا رہے ہیں۔ النصیرات کیمپ سمیت کئی پناہ گزین مراکز تقریباً خالی ہو چکے ہیں، جہاں مہینوں سے لوگ عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ مگر ان کی واپسی آسان نہیں۔ وہ علاقے جہاں وہ لوٹ رہے ہیں، اب ملبوں کے ڈھیر ہیں، عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں، پانی، بجلی اور علاج جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں۔ اس کے باوجود فلسطینی عوام کا اپنے وطن سے لگاؤ اور عزم انہیں واپس کھینچ لا رہا ہے۔ وہ اپنے پیاروں کی قبروں اور اپنے اجڑے گھروں کی دہلیز پر لوٹ کر بھی امید تلاش کر رہے ہیں۔ امن معاہدے کے تحت اسرائیل کو جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں افواج کے کچھ حصے واپس بلانے اور قیدیوں کے تبادلا کرنا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس منصوبے کی منظوری 10 اکتوبر کی صبح دی، جس کے تحت 24 گھنٹوں میں جنگ بندی اور 72 گھنٹوں میں قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونا ہے۔ دوسری جانب حماس کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیہ کا کہنا ہے کہ ثالث ممالک خصوصاً امریکا اور قطر نے ضمانت دی ہے کہ معاہدے کا پہلا مرحلہ دراصل جنگ کے خاتمے کی علامت ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے ہیں۔ معاہدے کے باوجود اسرائیلی ڈرونز اور جنگی طیارے اب بھی فضا میں گردش کر رہے ہیں، اور مختلف مقامات پر حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ کئی خاندان جو شمالی علاقوں کی طرف واپس جا رہے تھے، ان پر بمباری کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ یہ واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا اسرائیل واقعی امن کے لیے سنجیدہ ہے یا یہ محض بین الاقوامی دباؤ کم کرنے کی ایک وقتی چال ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیلی جارحیت نے غزہ کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 67 ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 69 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد ملبوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں، اور کئی خاندان ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے ہیں۔ اسپتال، اسکول، عبادت گاہیں، حتیٰ کہ امدادی قافلے بھی اسرائیلی حملوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ اعداد و شمار کسی فوجی کامیابی کے نہیں، بلکہ انسانیت کی ناکامی کے گواہ ہیں۔ اب جبکہ لڑائی کے خاتمے اور انخلا کا عمل شروع ہو چکا ہے، عالمی برادری، خاص طور پر اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور عرب دنیا کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ انہیں محض بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ امن معاہدے کی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، حق ِ خود ارادیت، آزاد ریاست کا قیام، اور مقبوضہ علاقوں سے مکمل اسرائیلی انخلا، کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ اگر عالمی طاقتیں اس موقع کو ضائع کرتی ہیں، تو یہ عارضی امن بھی ایک نئے تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ فلسطینی قیادت کے لیے بھی یہ وقت اہم ہے۔ ایک متفقہ سیاسی لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر فلسطین کا مقدمہ مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔ اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن کی ضمانت طاقت سے نہیں بلکہ انصاف سے پیدا ہوتی ہے۔ جب تک فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہیں ملتے، اس خطے میں پائیدار سکون ممکن نہیں ہے۔ پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا پر بھی اخلاقی و انسانی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ فلسطین کے لیے اپنی حمایت کو عملی شکل دے۔ سفارتی سطح پر مضبوط آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ انسانی امداد، بحالی کے منصوبے اور سیاسی دباؤ کے ذریعے فلسطینی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ غزہ کے ملبوں سے ابھرنے والی یہ کمزور سی کرن شاید مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے عہد ِ امن کا آغاز بن سکے، بشرطیکہ دنیا اس روشنی کو بجھنے نہ دے۔ یہ امن صرف بندوقوں کے خاموش ہونے سے نہیں آئے گا، بلکہ جب انصاف، آزادی اور وقار کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے گا۔ آج عالمی ضمیر ایک بار پھر آزمائش میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس بار غزہ کے بچوں کی چیخوں پر کان دھرے گی یا حسب ِ روایت خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ یہی وقت ہے کہ انسانیت اپنے ضمیر کو جگائے، کیونکہ اگر غزہ میں امن کی یہ پہلی کرن بجھ گئی، تو شاید دنیا دوبارہ اندھیرے سے باہر نہ نکل سکے اور یہ اندھیرہ بھی وقت کیساتھ پھیلے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔