Jasarat News:
2026-07-24@08:53:02 GMT

غزہ، خاندانوں کی آبائی علاقوں میں واپسی

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ کی تباہ حال سرزمین پر مہینوں سے جاری اسرائی کی دہشت گردی کے بعد بالآخر امن کی ایک معمولی کرن نمودار ہوئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی توثیق اور افواج کے جزوی انخلا کے بعد بے گھر فلسطینی خاندان شمالی غزہ کی جانب واپسی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ یہ منظر ایک طرف امید کی جھلک دکھاتا ہے، تو دوسری طرف اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جنگ کے زخم بہت گہرے ہیں، اور حقیقی امن ابھی بہت دور ہے۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق مغربی اور مرکزی غزہ کے علاقوں سے بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندان اب غزہ شہر اور شمالی علاقوں کی سمت واپس جا رہے ہیں۔ النصیرات کیمپ سمیت کئی پناہ گزین مراکز تقریباً خالی ہو چکے ہیں، جہاں مہینوں سے لوگ عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ مگر ان کی واپسی آسان نہیں۔ وہ علاقے جہاں وہ لوٹ رہے ہیں، اب ملبوں کے ڈھیر ہیں، عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں، پانی، بجلی اور علاج جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں۔ اس کے باوجود فلسطینی عوام کا اپنے وطن سے لگاؤ اور عزم انہیں واپس کھینچ لا رہا ہے۔ وہ اپنے پیاروں کی قبروں اور اپنے اجڑے گھروں کی دہلیز پر لوٹ کر بھی امید تلاش کر رہے ہیں۔ امن معاہدے کے تحت اسرائیل کو جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں افواج کے کچھ حصے واپس بلانے اور قیدیوں کے تبادلا کرنا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس منصوبے کی منظوری 10 اکتوبر کی صبح دی، جس کے تحت 24 گھنٹوں میں جنگ بندی اور 72 گھنٹوں میں قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونا ہے۔ دوسری جانب حماس کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیہ کا کہنا ہے کہ ثالث ممالک خصوصاً امریکا اور قطر نے ضمانت دی ہے کہ معاہدے کا پہلا مرحلہ دراصل جنگ کے خاتمے کی علامت ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے ہیں۔ معاہدے کے باوجود اسرائیلی ڈرونز اور جنگی طیارے اب بھی فضا میں گردش کر رہے ہیں، اور مختلف مقامات پر حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ کئی خاندان جو شمالی علاقوں کی طرف واپس جا رہے تھے، ان پر بمباری کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ یہ واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا اسرائیل واقعی امن کے لیے سنجیدہ ہے یا یہ محض بین الاقوامی دباؤ کم کرنے کی ایک وقتی چال ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیلی جارحیت نے غزہ کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 67 ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 69 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد ملبوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں، اور کئی خاندان ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے ہیں۔ اسپتال، اسکول، عبادت گاہیں، حتیٰ کہ امدادی قافلے بھی اسرائیلی حملوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ اعداد و شمار کسی فوجی کامیابی کے نہیں، بلکہ انسانیت کی ناکامی کے گواہ ہیں۔ اب جبکہ لڑائی کے خاتمے اور انخلا کا عمل شروع ہو چکا ہے، عالمی برادری، خاص طور پر اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور عرب دنیا کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ انہیں محض بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ امن معاہدے کی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، حق ِ خود ارادیت، آزاد ریاست کا قیام، اور مقبوضہ علاقوں سے مکمل اسرائیلی انخلا، کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ اگر عالمی طاقتیں اس موقع کو ضائع کرتی ہیں، تو یہ عارضی امن بھی ایک نئے تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ فلسطینی قیادت کے لیے بھی یہ وقت اہم ہے۔ ایک متفقہ سیاسی لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر فلسطین کا مقدمہ مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔ اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن کی ضمانت طاقت سے نہیں بلکہ انصاف سے پیدا ہوتی ہے۔ جب تک فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہیں ملتے، اس خطے میں پائیدار سکون ممکن نہیں ہے۔ پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا پر بھی اخلاقی و انسانی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ فلسطین کے لیے اپنی حمایت کو عملی شکل دے۔ سفارتی سطح پر مضبوط آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ انسانی امداد، بحالی کے منصوبے اور سیاسی دباؤ کے ذریعے فلسطینی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ غزہ کے ملبوں سے ابھرنے والی یہ کمزور سی کرن شاید مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے عہد ِ امن کا آغاز بن سکے، بشرطیکہ دنیا اس روشنی کو بجھنے نہ دے۔ یہ امن صرف بندوقوں کے خاموش ہونے سے نہیں آئے گا، بلکہ جب انصاف، آزادی اور وقار کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے گا۔ آج عالمی ضمیر ایک بار پھر آزمائش میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس بار غزہ کے بچوں کی چیخوں پر کان دھرے گی یا حسب ِ روایت خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ یہی وقت ہے کہ انسانیت اپنے ضمیر کو جگائے، کیونکہ اگر غزہ میں امن کی یہ پہلی کرن بجھ گئی، تو شاید دنیا دوبارہ اندھیرے سے باہر نہ نکل سکے اور یہ اندھیرہ بھی وقت کیساتھ پھیلے گا۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی عوام رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی

 صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کا طاقتور سپیل جاری ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج بھی وقفے وقفے سے بارش کی پیش گوئی کردی، مون سون بارشوں کے باعث حبس اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، شہر کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہوا میں نمی کا تناسب 83 فیصد رہا۔محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے، اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا۔پیشگوئی کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے، سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے جبکہ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادھر قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے بھی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی یا گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے