Jasarat News:
2026-06-03@07:51:46 GMT

غزہ، خاندانوں کی آبائی علاقوں میں واپسی

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ کی تباہ حال سرزمین پر مہینوں سے جاری اسرائی کی دہشت گردی کے بعد بالآخر امن کی ایک معمولی کرن نمودار ہوئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی توثیق اور افواج کے جزوی انخلا کے بعد بے گھر فلسطینی خاندان شمالی غزہ کی جانب واپسی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ یہ منظر ایک طرف امید کی جھلک دکھاتا ہے، تو دوسری طرف اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جنگ کے زخم بہت گہرے ہیں، اور حقیقی امن ابھی بہت دور ہے۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق مغربی اور مرکزی غزہ کے علاقوں سے بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندان اب غزہ شہر اور شمالی علاقوں کی سمت واپس جا رہے ہیں۔ النصیرات کیمپ سمیت کئی پناہ گزین مراکز تقریباً خالی ہو چکے ہیں، جہاں مہینوں سے لوگ عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ مگر ان کی واپسی آسان نہیں۔ وہ علاقے جہاں وہ لوٹ رہے ہیں، اب ملبوں کے ڈھیر ہیں، عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں، پانی، بجلی اور علاج جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں۔ اس کے باوجود فلسطینی عوام کا اپنے وطن سے لگاؤ اور عزم انہیں واپس کھینچ لا رہا ہے۔ وہ اپنے پیاروں کی قبروں اور اپنے اجڑے گھروں کی دہلیز پر لوٹ کر بھی امید تلاش کر رہے ہیں۔ امن معاہدے کے تحت اسرائیل کو جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں افواج کے کچھ حصے واپس بلانے اور قیدیوں کے تبادلا کرنا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس منصوبے کی منظوری 10 اکتوبر کی صبح دی، جس کے تحت 24 گھنٹوں میں جنگ بندی اور 72 گھنٹوں میں قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونا ہے۔ دوسری جانب حماس کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیہ کا کہنا ہے کہ ثالث ممالک خصوصاً امریکا اور قطر نے ضمانت دی ہے کہ معاہدے کا پہلا مرحلہ دراصل جنگ کے خاتمے کی علامت ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے ہیں۔ معاہدے کے باوجود اسرائیلی ڈرونز اور جنگی طیارے اب بھی فضا میں گردش کر رہے ہیں، اور مختلف مقامات پر حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ کئی خاندان جو شمالی علاقوں کی طرف واپس جا رہے تھے، ان پر بمباری کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ یہ واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا اسرائیل واقعی امن کے لیے سنجیدہ ہے یا یہ محض بین الاقوامی دباؤ کم کرنے کی ایک وقتی چال ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیلی جارحیت نے غزہ کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 67 ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 69 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد ملبوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں، اور کئی خاندان ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے ہیں۔ اسپتال، اسکول، عبادت گاہیں، حتیٰ کہ امدادی قافلے بھی اسرائیلی حملوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ اعداد و شمار کسی فوجی کامیابی کے نہیں، بلکہ انسانیت کی ناکامی کے گواہ ہیں۔ اب جبکہ لڑائی کے خاتمے اور انخلا کا عمل شروع ہو چکا ہے، عالمی برادری، خاص طور پر اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور عرب دنیا کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ انہیں محض بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ امن معاہدے کی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، حق ِ خود ارادیت، آزاد ریاست کا قیام، اور مقبوضہ علاقوں سے مکمل اسرائیلی انخلا، کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ اگر عالمی طاقتیں اس موقع کو ضائع کرتی ہیں، تو یہ عارضی امن بھی ایک نئے تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ فلسطینی قیادت کے لیے بھی یہ وقت اہم ہے۔ ایک متفقہ سیاسی لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر فلسطین کا مقدمہ مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔ اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن کی ضمانت طاقت سے نہیں بلکہ انصاف سے پیدا ہوتی ہے۔ جب تک فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہیں ملتے، اس خطے میں پائیدار سکون ممکن نہیں ہے۔ پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا پر بھی اخلاقی و انسانی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ فلسطین کے لیے اپنی حمایت کو عملی شکل دے۔ سفارتی سطح پر مضبوط آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ انسانی امداد، بحالی کے منصوبے اور سیاسی دباؤ کے ذریعے فلسطینی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ غزہ کے ملبوں سے ابھرنے والی یہ کمزور سی کرن شاید مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے عہد ِ امن کا آغاز بن سکے، بشرطیکہ دنیا اس روشنی کو بجھنے نہ دے۔ یہ امن صرف بندوقوں کے خاموش ہونے سے نہیں آئے گا، بلکہ جب انصاف، آزادی اور وقار کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے گا۔ آج عالمی ضمیر ایک بار پھر آزمائش میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس بار غزہ کے بچوں کی چیخوں پر کان دھرے گی یا حسب ِ روایت خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ یہی وقت ہے کہ انسانیت اپنے ضمیر کو جگائے، کیونکہ اگر غزہ میں امن کی یہ پہلی کرن بجھ گئی، تو شاید دنیا دوبارہ اندھیرے سے باہر نہ نکل سکے اور یہ اندھیرہ بھی وقت کیساتھ پھیلے گا۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی عوام رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار

کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔

کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کر لی گئیں۔

پولیس کے مطابق شاہ لطیف تھانے کی حدود میں بھینس کالونی کے قریب ایک نجی یونیورسٹی کے سامنے مبینہ پولیس مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت جاوید عرف راول کے نام سے ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم اسٹریٹ کرائمز، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا اور ماضی میں 15 سے زائد مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز اور نقد رقم بھی برآمد ہوئی۔

دوسری کارروائی اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ میں کی گئی جہاں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔

زخمی ملزم سہیل کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے ساتھی اکرم کو تھانے منتقل کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں

کراچی، پولیس اور ایس آئی یو کے ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے، 1 ڈاکو ہلاک، 3 زخمی حالت میں گرفتار

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فون، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر بہادرآباد تھانے کی حدود میں کنگری ہاؤس کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو ڈاکو گرفتار کیے گئے جن میں ایک زخمی ملزم جان شیر بھی شامل ہے۔

زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد کی گئی۔

ایک اور کارروائی فیروز آباد پولیس اور شاہین فورس نے جیل چورنگی کے قریب مشترکہ طور پر کی جہاں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے دیگر ساتھیوں اور جرائم پیشہ نیٹ ورک سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے