یہودی تہوار کے باعث نیتن یاہو کی غزہ سمٹ میں شرکت سے معذرت
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مصر کے تفریحی شہر شرم الشیخ میں پیر کو ہونے والے غزہ سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے آفس نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مذکورہ اجلاس ایک یہودی مذہبی تہوار کے ساتھ وقوع پذیرہورہا ہے۔
Netanyahu's potential participation, which circulated online for a few hours, prompted a number of leaders to consider boycotting the entire event.
Read more: https://t.co/DzAt7vCkEt pic.twitter.com/57p0lL8crn
— Roya News English (@RoyaNewsEnglish) October 13, 2025
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج مصر میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہودی تہوار ’سمحت توراہ‘ کے آغاز کے باعث شریک نہیں ہو سکیں گے۔
یہ مذہبی تہوار پیر کی شام سے شروع ہو کر منگل کی شام تک جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان و مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، غزہ اور فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال
قبل ازیں مصری صدارت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ نیتن یاہو کو امریکی صدر ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد شرم الشیخ سمٹ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس بھی اس بین الاقوامی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے مصری اعلان پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: غزہ امن معاہدہ نئے دور کا آغاز، ہم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب
دوسری جانب صدر ٹرمپ پیر کے روز اسرائیل پہنچے جہاں انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کیا۔
پارلیمنٹ میں داخل ہوتے وقت صدرٹرمپ نے کہا کہ فلسطینی تنظیم حماس ان کے امن منصوبے کے تحت اپنے ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوگی، اگرچہ حماس اس سے قبل اس امکان کو مسترد کر چکی ہے۔
خطاب سے قبل صحافیوں کے سوال پر صدر ٹرمپ نے اثبات میں کہا کہ غزہ کی جنگ ختم ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کے بدلے 620 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پاگیا، حماس
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کے مطابق مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کو ایک انتظامی کردار دیا جائے گا۔
تاہم یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اتھارٹی کو اصلاحات کے ایک وسیع پروگرام سے گزرنا ہوگا جو کئی سال لے سکتا ہے۔
منصوبے میں غزہ میں عرب ممالک کی قیادت میں ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس تعینات کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کے ساتھ مصر اور اردن کے تربیت یافتہ فلسطینی پولیس اہلکار بھی شامل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی معاہدہ، حماس نے 3 یرغمالی، اسرائیل نے 90 فلسطینی قیدی رہا کر دیے
منصوبے کے مطابق جیسے ہی یہ فورسز تعینات ہوں گی، اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا کریں گی۔
فی الحال تقریباً 200 امریکی فوجی اہلکار اسرائیل میں تعینات ہیں جو جنگ بندی پر عمل درآمد کی نگرانی کر رہے ہیں۔
منصوبے میں مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، جو نیتن یاہو کے لیے ناقابلِ قبول تصور کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اردن اسرائیل اسرائیلی وزیر اعظم بین الاقوامی سیکیورٹی فورس جنگ بندی حماس شرم الشیخ صدر ٹرمپ عبدالفتاح السیسی غزہ سمٹ فلسطینی اتھارٹی مصر نیتن یاہو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی وزیر اعظم شرم الشیخ عبدالفتاح السیسی فلسطینی اتھارٹی نیتن یاہو نیتن یاہو میں شرکت کے مطابق
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی