فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کے کمپوزٹ سرکل گوادر نے سمندر کے راستے غیر قانونی طور پر ایران جانے میں ملوث 14 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

گرفتار ملزمان پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے 4 ملزمان گوجرانوالہ کے، 2 فیصل آباد اور حافظ آباد کے، 5 لوئر دیر کے، جبکہ دیگر 3 صوابی، مردان اور مالاکنڈ کے مختلف علاقوں سے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:انسانی اسمگلنگ کی روک تھام: ایف آئی اے کی اے آئی ایپ تیار، اسلام آباد ایئرپورٹ پر آزمائشی آغاز

ملزمان کو جیوانی سے گرفتار کیا گیا، اور ابتدائی تفتیش کے مطابق وہ ایران سے غیر قانونی طور پر دیگر ممالک جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی بارڈر پار کرنے میں ملوث دیگر ملزمان کے خلاف بھی کریک ڈاؤن جاری ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ پکڑلیا

ایف آئی اے ان کی گرفتاری کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

ترجمان ایف آئی اے نے کہا کہ ادارہ قانون کی بالادستی اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسانی اسمگلنگ ایف آئی اے بارڈر بلوچستان جیوانی حافظ آباد صوابی کریک ڈاؤن لوئر دیر مالاکنڈ مردان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ ایف ا ئی اے بلوچستان جیوانی حافظ آباد صوابی کریک ڈاؤن لوئر دیر مالاکنڈ انسانی اسمگلنگ ایف آئی اے

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا