کوئٹہ میں گاڑی سے 13.6 کروڑ کی دو کلو کرسٹل آئس برآمد، دو ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
کوئٹہ:
کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کوئٹہ نے انسداد اسمگلنگ کی بڑی کارروائی میں 13 کروڑ 66 لاکھ روپے مالیت کی کرسٹل آئس ضبط کرلی۔
ایف بی آر ہیڈ کوارٹر کے مطابق کلکٹوریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) کوئٹہ کی فیلڈ انفورسمنٹ یونٹ (ایف ای یو) نوتل نے منشیات اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے تیرہ کروڑ 66 لاکھ روپے مالیت کی کرسٹل،آئس (Methamphetamine) ضبط کرلی۔
یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم سنگِ میل ہے جس میں مصدقہ خفیہ اطلاع پر کسٹمز اہلکاروں نے ایک مسافر گاڑی کو روکا اور ایک بیگ کے اندر چھپائی گئی 2 کلو گرام کرسٹل/آئس (Methamphetamine) برآمد کر لی۔
کسٹم کے مطابق ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کرکے کسٹمز ایکٹ 1969ء کے تحت قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔ ضبط شدہ منشیات کو مزید کارروائی کے لیے کسٹمز ویئر ہاوٴس منتقل کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرسٹل آئس
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔