Jang News:
2026-07-24@16:03:25 GMT

اسرائیل کی بدنیتی پر خدشات موجود ہیں: ملیحہ لودھی

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

اسرائیل کی بدنیتی پر خدشات موجود ہیں: ملیحہ لودھی

---فائل فوٹو 

سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بدنیتی پر خدشات موجود ہیں، ایسا نہ ہو کہ اسرائیل یرغمالی رہا ہونے کے بعد غزہ پر حملہ کر دے۔

ملیحہ لودھی نے جیونیوز کے مارننگ پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران کہا ہے کہ آج غزہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے اہم دن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ابھی شروعات ہے، اس معاہدے کے بہت سے مراحل ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

یاد رہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان آج اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

غزہ: اسرائیلی حمایت یافتہ گینگ نے معروف فلسطینی صحافی صالح الجعفراوی کو شہید کر دیا

غزہ میں اسرائیلی حمایت یافتہ گینگ کے ہاتھوں فلسطینی صحافی صالح الجعفراوی شہید کر دیے گئے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تبادلے کے عمل میں 20 اسرائیلی یرغمالی ریڈ کراس کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب حماس نے بھی اسرائیلی یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے سپرد کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق رہائی کے لیے 1 ہزار 966 فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں سے بس میں سوار ہو گئے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی قیدیوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے جنوبی غزہ میں بڑی تعداد میں فلسطینی جمع ہیں۔

فلسطینی قیدیوں کی جنوبی غزہ میں النصر اسپتال میں آمد متوقع ہے، اسرائیلی جیلوں سے رہا 1716 فلسطینی قیدی نصر اسپتال پہنچائے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی حملوں کا خوف؛ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا کی جانب دوڑ؛ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
  • یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں میں جھڑپ؛ اسرائیلی فوج کا میجر اور سپاہی ہلاک
  • اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار
  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم