data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ: اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ حماس کی جانب سے چار اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس کیے جانے کے بعد، اسرائیل نے 45 فلسطینی شہداء کی میتیں غزہ منتقل کر دی ہیں۔

یہ تبادلہ ٹرمپ امن معاہدے کے تحت طے پائے گئے جنگ بندی فارمولے کا حصہ ہے، جس کے مطابق ہر ایک اسرائیلی لاش کے بدلے 15 فلسطینی لاشیں واپس کی جاتی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس کی جانب سے حوالے کی گئی یرغمالیوں میں 26 سالہ گائے ایلوز اور 22 سالہ بیپن جوشی شامل ہیں۔
گائے ایلوز کو 7 اکتوبر 2023 کو نووا میوزک فیسٹیول سے زخمی حالت میں حماس نے یرغمال بنایا تھا، جو مبینہ طور پر طبی امداد نہ ملنے کے باعث قید کے دوران ہلاک ہوگیا۔

جبکہ بیپن جوشی، جو کہ نیپال کے شہری اور زرعی تعلیم کے طالبعلم تھے، اسرائیل میں تربیتی پروگرام کے دوران کیبوتز علومیم سے اغوا کیے گئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے کے وقت بیپن جوشی نے حملہ آوروں کی جانب پھینکا گیا دستی بم واپس اچھال کر اپنے ساتھی کی جان بچائی تھی۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ باقی دو یرغمالیوں کی شناخت بھی کرلی گئی ہے تاہم ان کے اہل خانہ کی درخواست پر نام فی الحال خفیہ رکھے گئے ہیں۔

ادھر غزہ کے ناصر میڈیکل سینٹر نے تصدیق کی کہ ریڈ کراس کے ذریعے موصول ہونے والی 45 فلسطینی لاشیں وہ شہداء ہیں جنہیں اسرائیلی فوج نے مختلف حملوں میں ہلاک کیا تھا۔
ان شہداء میں خواتین، بچے اور متعدد عام شہری شامل ہیں جن کی تدفین غزہ کے مختلف علاقوں میں کر دی گئی ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کے قبضے میں اب بھی 24 یرغمالیوں کی لاشیں موجود ہیں جن کی واپسی آئندہ مراحل میں متوقع ہے۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبادلہ خطے میں انسانی بنیادوں پر اعتماد سازی کے عمل کی ایک نئی پیشرفت ہے، تاہم زمینی حقائق اب بھی اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی ابھی ایک مشکل ہدف ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق