حماس کا بڑا اقدام، 20 زندہ قیدیوں کے بعد 4 قیدیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
حماس کا کہنا ہے کہ مزید 24 اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی بازیابی میں وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ غزہ میں جاری بمباری کے باعث کئی تدفینی مقامات تباہ ہوچکے ہیں اور کچھ لاشیں ملبے تلے ہونے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے 20 زندہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد 4 قیدیوں کی لاشیں بھی بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ذریعے اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق جن قیدیوں کی لاشیں حماس نے حوالے کی ہیں، ان میں گائے ایلوز، یوسی شارابی، بپن جوشی اور ڈینیئل پریز شامل ہیں۔ لاشوں کی حوالگی کا عمل مکمل بین الاقوامی نگرانی میں انجام پایا۔ حماس کا کہنا ہے کہ مزید 24 اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی بازیابی میں وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ غزہ میں جاری بمباری کے باعث کئی تدفینی مقامات تباہ ہوچکے ہیں اور کچھ لاشیں ملبے تلے ہونے کا خدشہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قیدیوں کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔