Express News:
2026-07-24@06:09:51 GMT

کاش انسانی جانیں بچ جاتیں

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

یوں لگتا ہے کہ کسی منصوبہ بندی کے تحت ملک کو بدامنی کی آگ میں دھکیلا جارہا ہے۔ یہ کیا ہے کہ وطنِ عزیز کے ہر حصّے میں دنگا، فساد اور جھگڑے پھوٹ پڑے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کچھ سکون ہوا، تو ملک کے دوسرے حصّے بدامنی کا شکار ہوگئے ہیں۔

ملک کے کسی حصّے میں بھی امن یا استحکام نظر نہیں آتا۔ کہیں دہشت گردی کے زہریلے ناگ بے گناہ انسانوں کو ڈس رہے ہیں اور سیکیوریٹی فورسز کے گھبرو جوان اور خوبرو افسر شہید ہورہے ہیں، کہیں سرحدوں پر آگ برس رہی ہے، کہیں جہلاء کے جتھے پولیس سے برسرِ پیکار ہیں، پنجاب اور اسلام آباد کی سڑکیں اور راستے بند رہے ہیں۔ کئی دن جی ٹی روڈ بند رہی ہے، اس دوران لوگ گھروں میں محصور رہے۔

طلباء تعلیم سے محروم اور مریض دوا سے۔ انتہائی شدید مرض میں مبتلا مریض اسپتالوں تک نہ پہنچنے کے باعث راستوں میں ہی جانیں دے رہے ہیں۔ حکمرانوں، طبقۂ امراء اور احتجاجیوں کو اس عذاب کے اثرات کا اندازہ نہیں کیونکہ انھیں ہر چیز میّسر ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ سڑکیں بند ہونے سے ہر روز لاکھوں گھروں کے کمانے والے افراد کام/ مزدوری پر نہیں جاسکتے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کے چولہے نہیں جل سکے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ہر درد مند پاکستانی کا دل مضطرب ہے۔

کیا مئی کی فتح کو کسی بدخواہ کی نظر لگ گئی ہے؟ کیا اس کے بعد ہمارے حکمران کوئی بڑے بول تو نہیں بولتے رہے جو خالقِ کائنات کی ناراضگی کا باعث بنے ہوں۔ ابھی چند روز پہلے ایک بزرگ شخصیّت نے مجھے فون کرکے تاکید کی تھی کہ آپ اپنے کالموں میں لکھیں کہ حکومتی شخصیات کے متکبّرانہ بیانات درست نہیں ہیں۔ کائناتوں کے مالک کو صرف عاجزی پسند ہے۔

ملک کے مختلف حصّوں میں برپا بدامنی کے پیچھے یقیناً ملکی اور بیرونی ایجنڈا بھی ہے۔ پرانے دشمنوں کے علاوہ کچھ نئے دشمن بھی اور عالمی طاقتیں بھی ملوّث ہیں مگر کہیں نہ کہیں اس میں ہماری اپنی کوتاہی، نالائقی، ناتجربہ کاری اور بدانتظامی بھی ضرور شامل ہے۔ برادرم نوید چوہدری سینئر اور باخبر صحافی ہیں، تازہ صورتِ حال کے تناظر میں لکھتے ہیں:’’ ہر سال لاہور سے اسلام آباد جانے کا اعلان ہوتا ہے، ماردھاڑ ملتان روڈ پر شروع ہو جاتی ہے۔ جلوس چل پڑتا ہے، ابھی شہر سے باہر نہیں نکلتا کہ ہلاکتوں کی خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔

پولیس کی گاڑیاں قبضے میں لے کر تھانوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ڈی آئی جی بتاتے ہیں کہ پولیس پر بدترین تشدد کیا گیا، کئی اہلکار اغوا ہو گئے، کسی کا سر پھٹا ہے، کسی کی ٹانگ یا بازو زخمی ہے۔اس دوران کاروبارِ زندگی مفلوج ہوتا ہے، موٹر ویز، شاہراہیں بند، جو جہاں ہے وہیں پھنس جاتا ہے۔ پرائیویٹ گاڑیاں بھی محفوظ نہیں رہتیں، مارکیٹیں اور اسکول بند ہو جاتے ہیں۔ ان واقعات کو عالمی اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرکے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا تشخص مجروح کیا جاتا ہے۔ پوری قوم خوف اور اذیّت میں مبتلا کر دی جاتی ہے۔

ہر کوئی دوسرے سے پوچھ رہا ہوتا ہے یہ عذاب کب ٹلے گا، جب یہ کارواں سب کچھ روند کر اسلام آباد پہنچتا ہے تو (ماضی کی ) وفاقی حکومت ایک کمیٹی بناتی ہے۔ کچھ نکات طے پاتے ہیں۔ اس پر عمل درآمد ہو نہ ہو، اس دوران جتنا نقصان ہو چکا ہوتا ہے، اس کا ازالہ کوئی نہیں کر سکتا۔ مظاہرین اور حکومتی عمائدین مشترکہ پریس کانفرنس کرکے ہنسی خوشی گھروں کو لوٹ آتے ہیں‘‘۔

جی بالکل، ہنسی خوشی، ایک دوسرے سے جپھّیاں بھی ڈالتے ہیں اور مذاکرات کی ’’کامیابی‘‘ پر مبارکبادیں وصول کی جاتی ہیں اور اس طرح دونوں اطراف سے ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان اور عزیز واقرباء کے زخموں پر نمک چھڑکا جاتا ہے۔ چوہدری صاحب نے شرافت اور وضعداری سے کام لیا ہے ورنہ وہ یہ بھی پوچھ سکتے تھے کہ کیا امورِ سلطنت چلانے اور احتجاج کرنے کا یہی چلن ہوتا ہے؟ دونوں اطراف کے بندے مروانے اور زخمی کروانے کے بعد ہونے والے مذاکرات پہلے کیوں نہیں کیے جاسکتے۔ موّثر اور ایفی شینٹ حکومت پہلے ہی کسی ممکنہ شرارت، یا بدامنی کی بُو سونگھ لیتی ہے اور حالات خراب ہونے سے پہلے ہی اس کا سدِّباب کرتی ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوسکا؟

جب دنیا بھر میں مظلومینِ غزہ کے لیے لاکھوں کے جلوس نکل رہے تھے، اس وقت تو یہاں کوئی موثر جلوس نہ نکلا اور اب جب کہ بیچارے مظلوم فلسطینیوں کو کچھ ریلیف ملا ہے جس پر وہ خود بھی خوشیاں منا رہے ہیں لہٰذا اِس وقت غزہ کے نام پر ریلی نکالنے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے کا تو بالکل ہی کوئی جواز نہ تھا۔ اس بے وقت اور بلاجواز ریلی کے کیا محرّکات تھے؟ اس سلسلے میں بھی طرح طرح کے قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

اس وقت فلسطین کا کوئی ایشو نہیں تھا، کیونکہ فوری طور پر اہلِ غزہ یہی چاہتے تھے کہ اسرائیل کی فائرنگ رکے (جس سے ہر روز بیسیوں بے گناہ انسان شہید ہورہے تھے) اور غزہ تک پہنچنے والے امدادی ٹرکوں کو وہاں آنے کی اجازت دی جائے۔ اس ضمن میں جو معمولی سا ریلیف ملا ہے مظلومینِ غزہ اس پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں کہ اُن پر ہر روز برسنے والی آگ اور بارود کی بارش رک گئی ہے اور امدادی ٹرک بھی خوراک اور دوائیاں لے کر وہاں جانا شروع ہوگئے ہیں، اس لیے اب اس معاہدے پر اطمینان کے بجائے اسلام آباد پہنچنے اور وہاں امریکی ایمبیسی کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان ناقابلِ فہم ہے۔

 مرید کے میں ہونے والا تصادم افسوناک ہے، دونوں جانب کی جانوں کے ضیاع پر بہت دکھ ہوا ہے، پولیس کے جوان سال انسپکٹر شہزاد کی شہادت پر دل بڑا دکھی ہے، اس کے معصوم بچوں کے چہروں پر یہی سوال ہے کہ ’’ہمارے ابو کو کیوں مارا گیا ہے؟ ان کا کیا قصور تھا؟‘‘ اس کا کون جواب دے گا۔ دوسری جانب سے ہونے والی ہلاکتوں پر بھی بہت افسوس ہے۔ خون خرابے سے ہر قیمت پر بچنا چاہیے تھا اور بچا جاسکتا تھا۔ بات چیت سے راستہ نکالا جاسکتا تھا، کاش خون خرابہ نہ ہوتا اور انسانی جانیں بچ جاتیں۔ اس وقت جب کہ سرحدوں پر دشمن حملے کررہے ہیں اور آئے روز ہمارے افسر اور جوان شہید ہورہے ہیں، ہمیں اندرونی طور پر امن اور استحکام کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد رہے ہیں ہوتا ہے ہیں اور اور اس

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا