Express News:
2026-06-03@02:50:01 GMT

کاش انسانی جانیں بچ جاتیں

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

یوں لگتا ہے کہ کسی منصوبہ بندی کے تحت ملک کو بدامنی کی آگ میں دھکیلا جارہا ہے۔ یہ کیا ہے کہ وطنِ عزیز کے ہر حصّے میں دنگا، فساد اور جھگڑے پھوٹ پڑے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کچھ سکون ہوا، تو ملک کے دوسرے حصّے بدامنی کا شکار ہوگئے ہیں۔

ملک کے کسی حصّے میں بھی امن یا استحکام نظر نہیں آتا۔ کہیں دہشت گردی کے زہریلے ناگ بے گناہ انسانوں کو ڈس رہے ہیں اور سیکیوریٹی فورسز کے گھبرو جوان اور خوبرو افسر شہید ہورہے ہیں، کہیں سرحدوں پر آگ برس رہی ہے، کہیں جہلاء کے جتھے پولیس سے برسرِ پیکار ہیں، پنجاب اور اسلام آباد کی سڑکیں اور راستے بند رہے ہیں۔ کئی دن جی ٹی روڈ بند رہی ہے، اس دوران لوگ گھروں میں محصور رہے۔

طلباء تعلیم سے محروم اور مریض دوا سے۔ انتہائی شدید مرض میں مبتلا مریض اسپتالوں تک نہ پہنچنے کے باعث راستوں میں ہی جانیں دے رہے ہیں۔ حکمرانوں، طبقۂ امراء اور احتجاجیوں کو اس عذاب کے اثرات کا اندازہ نہیں کیونکہ انھیں ہر چیز میّسر ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ سڑکیں بند ہونے سے ہر روز لاکھوں گھروں کے کمانے والے افراد کام/ مزدوری پر نہیں جاسکتے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کے چولہے نہیں جل سکے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ہر درد مند پاکستانی کا دل مضطرب ہے۔

کیا مئی کی فتح کو کسی بدخواہ کی نظر لگ گئی ہے؟ کیا اس کے بعد ہمارے حکمران کوئی بڑے بول تو نہیں بولتے رہے جو خالقِ کائنات کی ناراضگی کا باعث بنے ہوں۔ ابھی چند روز پہلے ایک بزرگ شخصیّت نے مجھے فون کرکے تاکید کی تھی کہ آپ اپنے کالموں میں لکھیں کہ حکومتی شخصیات کے متکبّرانہ بیانات درست نہیں ہیں۔ کائناتوں کے مالک کو صرف عاجزی پسند ہے۔

ملک کے مختلف حصّوں میں برپا بدامنی کے پیچھے یقیناً ملکی اور بیرونی ایجنڈا بھی ہے۔ پرانے دشمنوں کے علاوہ کچھ نئے دشمن بھی اور عالمی طاقتیں بھی ملوّث ہیں مگر کہیں نہ کہیں اس میں ہماری اپنی کوتاہی، نالائقی، ناتجربہ کاری اور بدانتظامی بھی ضرور شامل ہے۔ برادرم نوید چوہدری سینئر اور باخبر صحافی ہیں، تازہ صورتِ حال کے تناظر میں لکھتے ہیں:’’ ہر سال لاہور سے اسلام آباد جانے کا اعلان ہوتا ہے، ماردھاڑ ملتان روڈ پر شروع ہو جاتی ہے۔ جلوس چل پڑتا ہے، ابھی شہر سے باہر نہیں نکلتا کہ ہلاکتوں کی خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔

پولیس کی گاڑیاں قبضے میں لے کر تھانوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ڈی آئی جی بتاتے ہیں کہ پولیس پر بدترین تشدد کیا گیا، کئی اہلکار اغوا ہو گئے، کسی کا سر پھٹا ہے، کسی کی ٹانگ یا بازو زخمی ہے۔اس دوران کاروبارِ زندگی مفلوج ہوتا ہے، موٹر ویز، شاہراہیں بند، جو جہاں ہے وہیں پھنس جاتا ہے۔ پرائیویٹ گاڑیاں بھی محفوظ نہیں رہتیں، مارکیٹیں اور اسکول بند ہو جاتے ہیں۔ ان واقعات کو عالمی اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرکے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا تشخص مجروح کیا جاتا ہے۔ پوری قوم خوف اور اذیّت میں مبتلا کر دی جاتی ہے۔

ہر کوئی دوسرے سے پوچھ رہا ہوتا ہے یہ عذاب کب ٹلے گا، جب یہ کارواں سب کچھ روند کر اسلام آباد پہنچتا ہے تو (ماضی کی ) وفاقی حکومت ایک کمیٹی بناتی ہے۔ کچھ نکات طے پاتے ہیں۔ اس پر عمل درآمد ہو نہ ہو، اس دوران جتنا نقصان ہو چکا ہوتا ہے، اس کا ازالہ کوئی نہیں کر سکتا۔ مظاہرین اور حکومتی عمائدین مشترکہ پریس کانفرنس کرکے ہنسی خوشی گھروں کو لوٹ آتے ہیں‘‘۔

جی بالکل، ہنسی خوشی، ایک دوسرے سے جپھّیاں بھی ڈالتے ہیں اور مذاکرات کی ’’کامیابی‘‘ پر مبارکبادیں وصول کی جاتی ہیں اور اس طرح دونوں اطراف سے ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان اور عزیز واقرباء کے زخموں پر نمک چھڑکا جاتا ہے۔ چوہدری صاحب نے شرافت اور وضعداری سے کام لیا ہے ورنہ وہ یہ بھی پوچھ سکتے تھے کہ کیا امورِ سلطنت چلانے اور احتجاج کرنے کا یہی چلن ہوتا ہے؟ دونوں اطراف کے بندے مروانے اور زخمی کروانے کے بعد ہونے والے مذاکرات پہلے کیوں نہیں کیے جاسکتے۔ موّثر اور ایفی شینٹ حکومت پہلے ہی کسی ممکنہ شرارت، یا بدامنی کی بُو سونگھ لیتی ہے اور حالات خراب ہونے سے پہلے ہی اس کا سدِّباب کرتی ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوسکا؟

جب دنیا بھر میں مظلومینِ غزہ کے لیے لاکھوں کے جلوس نکل رہے تھے، اس وقت تو یہاں کوئی موثر جلوس نہ نکلا اور اب جب کہ بیچارے مظلوم فلسطینیوں کو کچھ ریلیف ملا ہے جس پر وہ خود بھی خوشیاں منا رہے ہیں لہٰذا اِس وقت غزہ کے نام پر ریلی نکالنے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے کا تو بالکل ہی کوئی جواز نہ تھا۔ اس بے وقت اور بلاجواز ریلی کے کیا محرّکات تھے؟ اس سلسلے میں بھی طرح طرح کے قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

اس وقت فلسطین کا کوئی ایشو نہیں تھا، کیونکہ فوری طور پر اہلِ غزہ یہی چاہتے تھے کہ اسرائیل کی فائرنگ رکے (جس سے ہر روز بیسیوں بے گناہ انسان شہید ہورہے تھے) اور غزہ تک پہنچنے والے امدادی ٹرکوں کو وہاں آنے کی اجازت دی جائے۔ اس ضمن میں جو معمولی سا ریلیف ملا ہے مظلومینِ غزہ اس پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں کہ اُن پر ہر روز برسنے والی آگ اور بارود کی بارش رک گئی ہے اور امدادی ٹرک بھی خوراک اور دوائیاں لے کر وہاں جانا شروع ہوگئے ہیں، اس لیے اب اس معاہدے پر اطمینان کے بجائے اسلام آباد پہنچنے اور وہاں امریکی ایمبیسی کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان ناقابلِ فہم ہے۔

 مرید کے میں ہونے والا تصادم افسوناک ہے، دونوں جانب کی جانوں کے ضیاع پر بہت دکھ ہوا ہے، پولیس کے جوان سال انسپکٹر شہزاد کی شہادت پر دل بڑا دکھی ہے، اس کے معصوم بچوں کے چہروں پر یہی سوال ہے کہ ’’ہمارے ابو کو کیوں مارا گیا ہے؟ ان کا کیا قصور تھا؟‘‘ اس کا کون جواب دے گا۔ دوسری جانب سے ہونے والی ہلاکتوں پر بھی بہت افسوس ہے۔ خون خرابے سے ہر قیمت پر بچنا چاہیے تھا اور بچا جاسکتا تھا۔ بات چیت سے راستہ نکالا جاسکتا تھا، کاش خون خرابہ نہ ہوتا اور انسانی جانیں بچ جاتیں۔ اس وقت جب کہ سرحدوں پر دشمن حملے کررہے ہیں اور آئے روز ہمارے افسر اور جوان شہید ہورہے ہیں، ہمیں اندرونی طور پر امن اور استحکام کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد رہے ہیں ہوتا ہے ہیں اور اور اس

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو