Juraat:
2025-11-29@19:37:13 GMT

پاک افغان بارڈر پردوبارہ جھڑپ، فائرنگ کا تبادلہ

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

پاک افغان بارڈر پردوبارہ جھڑپ، فائرنگ کا تبادلہ

کرم میںپاک افغان شورکو باڈر پر کشیدگی ،دونوں اطراف سے فائرنگ کا سلسلہ جاری
ضلع کے دیگر باڈر پر سکیورٹی فورسزالرٹ، بارڈر حکام کاگاڑیوں کو پیچھے جانے کا حکم

ضلع کرم میں پاک افغان شورکو بارڈر پر ایک بار کشیدگی بڑھ گئی ،دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان جھڑپ کے دوران شدید فائرنگ کاتبادلہ ہوا ۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع کرم پاک میں افغان شورکو باڈر پر کشیدگی دوبارہ شروع ہوگئی اور دونوں اطراف سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پاک افغان سرحد شورکو سیکٹر میں سکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے مابین جھڑپ کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے ۔کشیدگی کے باعث ضلع کے دیگر باڈر پر بھی سکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ۔ادھر حرلاچی بارڈر پر بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں بارڈر حکام نے تمام بھری گاڑیوں کو پیچھے جانے کا حکم دے دیا ہے۔

.

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: فائرنگ کا پاک افغان باڈر پر

پڑھیں:

وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف

وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز

واشنگٹن (شاہ خالد) وائٹ ہاؤس فائرنگ کا واقعہ سیاسی تنازعہ بن گیا، افغان ملزم رحمان اللہ لکنوال کو ٹرمپ دور میں سیاسی پناہ دی گئی جبکہ امریکی صدر نے واقعہ کی وجہ بائیڈن دور کی امیگریشن پالیسی کو قرار دیا ہے۔

اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ غیر قانونی تارکین امریکا آکر مشکلات پیدا کرتے ہیں انہوں نے پناہ گزینوں کے مقدمات کا وسیع پیمانے پر ازسر نو جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ تاہم سرکاری ریکارڈ کے مطابق ملزم کو رواں سال سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ہی پناہ دی تھی۔

رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد ایف بی آئی نے مشتبہ افغان ملزم 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کے واشنگٹن اسٹیٹ میں گھر کی تلاشی لی اور اس کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات تحویل میں لے لیے۔،

رپورٹ کے مطابق افغان ملزم سال 2021 میں امریکہ میں سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت آیا تھا اور اس سے قبل افغانستان میں سی آئی اے کی معاون یونٹ کا حصہ تھا۔

29سالہ رحمان اللہ لکنوال 8 ستمبر 2021 کو آپریشن ایلیز ویلکم کے تحت امریکہ میں داخل ہوا۔ یہ منصوبہ سابق ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی انخلا اور کابل حکومت کے سقوط کے بعد شروع کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

گزشتہ روز ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی اٹارنی جینین پیرو، جو دونوں ٹرمپ کے مقرر کردہ عہدیدار ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ اس وقت کی بائیڈن انتظامیہ نے لکنوال کے پس منظر کی جانچ پڑتال نہیں کی تھی، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق لکنوال نے دسمبر 2024 میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی، جسے 23 اپریل 2025 کو منظور کیا گیا یعنی ٹرمپ کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے تین ماہ بعد۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ ملزم کے خلاف کسی مجرمانہ سابقہ ریکارڈ کا اندراج نہیں ہے اور اسے افغانستان میں امریکی اداروں کے ساتھ تعاون کے باعث پہلے ہی اعلیٰ سطح کی جانچ پڑتال سے گزارا جا چکا تھا۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹ کلف نے تصدیق کی کہ ملزم قندھار میں سی آئی اے کی معاون افواج کے ساتھ کام کرتا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان ابیگیل جیکسن نے کہا ہے کہ یہ شخص بائیڈن کی خطرناک پالیسیوں کی وجہ سے یہاں تک پہنچا، جنہوں نے ہزاروں افراد کو کسی جانچ پڑتال کے بغیر ہی امریکہ آنے دیا۔

واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں مزید 500 فوجی اہلکار تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے لکنوال کو درندہ قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گردی کا واقعہ کہا۔

علاوہ ازیں ٹرمپ انتظامیہ نے تمام افغانیوں کی جانب سے دی گئی امیگریشن اور سیاسی پناہ درخواستیں معطل کردی ہیں اور بائیڈن دور میں امریکہ آنے والے افغان شہریوں کی مکمل ازسرنو جانچ کا عندیہ دیا ہے، جس میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے ماضی میں سی آئی اے کے ساتھ کام کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند افغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند وفاقی دفتر خزانہ اسلام آباد میں منظم بے ضابطگیوں کا میگا اسکینڈل بے نقاب پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ اڈیالہ جیل کے اطراف امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ، 5 اضافی پکٹس قائم تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت، چین کی شہریوں کو سرحدی علاقے سے فوری انخلاکی ہدایت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  •   کن علاقوں میں صوبائی حکومت کی حکومت نہیں رہی، پاک فوج کے ترجمان نے بتادیا
  • اقوامِ متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش پر نظرثانی کی درخواست کردی، فیصلہ قیادت سے مشاورت کے بعد ہوگا: اسحاق ڈار
  • پاک افغان سرحدی علاقوں میں سیاسی و دہشت گرد عناصر کا خطرناک گٹھ جوڑ، خیبر اور تیراہ میں انتظامی خلا: آئی ایس پی آر
  • بارڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف
  • وائٹ ہاؤس فائرنگ کیس میں پیش رفت، افغان حملہ آور کے گھر سے اہم شواہد برآمد
  • محسن نقوی کی بحرینی ہم منصب سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
  • واشنگٹن واقعے کے بعد امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں
  • نیشنل گارڈز پر حملہ، امریکا نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں معطل کردیں
  • چمن سرحد کی طویل بندش، افغانستان کو ادویات اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا