وزیر اعظم کی نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات، پاک، افغان کشیدگی سے متعلق تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
راؤ دلشاد: وزیر اعظم شہباز شریف کی جاتی امرا میں میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات، پاک، افغان کشیدگی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے افغانستان کی جانب سے پاکستانی علاقوں پر بلااشتعال جارحیت کی شدید مذمت کی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی جاتی امرا میں میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات کی، ملاقات میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعظم اور میاں نواز شریف نے حکومتی پالیسیوں اور پارٹی امور پر بھی مشاورت کی ، وزیر اعظم نے میاں نواز شریف کو حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا ،میاں نواز شریف نے وزیراعظم کی قومی معاملات پر رہنمائی کی ،دونوں رہنماؤں نے ملکی استحکام اور عوامی ریلیف کے عزم کا اظہار کیا۔
قبائلی عوام نےافغانستان کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کیخلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کردیا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے افغانستان کی جانب سے پاکستانی علاقوں پر بلااشتعال جارحیت کی شدید مذمت کی، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا افغان جارحیت کا دلیری سے جواب دینے پر پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاک فوج پوری قوم کی عزت ،غیرت،عزم اور وقار کی علمبردار ہے، افغان جارحیت کا جواب پاک افواج نے ہمیشہ کی طرح جرات دانشمندی اور قومی اتحاد سے دیا ہے۔
پاک افغان سرحد پر افغانستان کی بلا اشتعال فائرنگ، سعودی عرب کا اظہارِ تشویش
پاکستان کی سرحدیں مقدس امانت ہیں انکی حفاظت ہر پاکستانی کا فرض ہے، افغان جارحیت کا جواب پیغام ہے کہ پاک سرزمین امن کی ضامن ہے،کمزوری کی علامت نہیں۔
پنجاب کے بارہ کروڑ عوام اپنی بہادر افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں، امن چاہتے ہیں پر پاکستان کی سالمیت یا شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پنجاب مریم نواز میاں نواز شریف مریم نواز شریف نواز شریف نے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔