اسرائیل نے غزہ کے لیے انسانی امداد کی ترسیل میں کمی اور غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر بھی بدستور بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیلی پارلیمنٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران احتجاج، فلسطین کو تسلیم کرنے کے نعرے

منگل کو اسرائیلی حکام نے غیر ملکی خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تاہم انہوں نے کہ یہ نہیں بتایا کہ کہ یہ فیصلہ کتنے عرصے تک نافذالعمل رہے گا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک نئے امریکی ثالثی کردہ جنگ بندی معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔

لاشیں نکالنا وقت طلب کام ہے، حماس

حماس کا اس سے قبل کہنا تھا کہ بعض یرغمالیوں کی لاشوں کی بازیابی میں تاخیر ممکن ہے کیونکہ غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور ملبے کے باعث تمام دفنائے گئے مقامات کا علم نہیں۔

مزید پڑھیے: اسرائیل سے رہا قیدی رام اللہ پہنچ گئے، عوام کا والہانہ استقبال، 20 یرغمالی اسرائیل کے حوالے

اس وقت غزہ میں ہزاروں عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں اور متعدد علاقوں تک رسائی محدود ہے جس کی وجہ سے لاشوں کی تلاش اور شناخت کا عمل پیچیدہ اور خطرناک ہے۔

رفح کراسنگ کی بندش جاری

رفح بارڈر جو غزہ میں داخل ہونے والی اہم امدادی گزرگاہ ہے پچھلے کئی دنوں سے بند ہے۔ مصر کے ساتھ ملحق اس سرحدی گزرگاہ کے ذریعے ہی غزہ میں انسانی امداد، میڈیکل سپلائیز اور ایندھن پہنچایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: حماس نے 7 اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے، فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کی تیاریاں جاری

اس بندش سے نہ صرف انسانی بحران میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ طبی سہولیات، خوراک اور پانی کی قلت بھی شدید ہو گئی ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعے کے دوران امریکا کی کوششوں سے ایک عارضی جنگ بندی کا مسودہ تیار کیا گیا تھا جس کے تحت حماس کی طرف سے یرغمالیوں کی لاشیں واپس کی جانی تھیں اور بدلے میں اسرائیل غزہ میں امداد کی فراہمی جاری رکھتا۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ امن معاہدہ نئے دور کا آغاز، ہم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب

تاہم فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی، عملی مشکلات اور سیاسی دباؤ کے باعث یہ عمل پیچیدگیوں کا شکار ہوگیا ہے۔ ان سب باتوں کے نتیجے میں غزہ میں انسانی بحران میں شدت بڑھتی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل رفح بارڈر بدستور بند غزہ امدداد کی ترسیل متاثر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل رفح بارڈر بدستور بند غزہ امدداد کی ترسیل متاثر

پڑھیں:

بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز  جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔

صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔

استعفے کی وجہ کیا ہے؟

صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

آئینی طریقہ کار

صدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔

آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔

شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگی

شیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔

گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔

موجودہ حکومت پر دباؤ

شیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔

اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔

2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے

76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم