Jasarat News:
2026-06-03@00:25:15 GMT

پاکستان میں غربت کی شرح40.5 فیصد تک جانےکا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT

پاکستان میں غربت کی شرح40.5 فیصد تک جانےکا انکشاف

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان میں رواں سال غربت کی شرح بڑھ کر 40.5 فیصد تک جانے کا انکشاف کیا ہے جبکہ معاشی استحکام کےلیے سیاسی اتفاق رائے اور آئی ایم ایف پروگرام پر عمل ضروری قرار دیا ہے۔

عالمی بینک نے ڈیویلپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ جاری کر دی جس میں پاکستان میں سالانہ 16 لاکھ نئے نوجوانوں کےلیے روزگار کے مواقع ناکافی قرار دیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2023 میں غربت کی شرح 40.

2 فیصد تھی، بڑھتی غربت کی وجہ سست معاشی ترقی، بلند مہنگائی اور اجرت میں کمی ہے، اگلے سال مالی خسارہ کم ہو کر 7.3 فیصد کی سطح پر آجائے گا پاکستان میں قرضوں کی شرح اس سال 72.4 فیصد سے 73.8 فیصد تک جانے کا تخمینہ ہے۔

 اگلے مالی سال پاکستان کے ذمہ قرض کی شرح مزید بڑھ کر 74.7 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے. اگلے دو سال میں روزگار کے حصول کے لیے مارکیٹ میں 35 لاکھ نئے لوگ آئیں گے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق مقامی کرنسی کی ترسیل 14.2 فیصد سے بڑھ کر 16.1 فیصد تک پہنچ گئی جس کی وجہ سے بھی پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا مالی طور پر غیر مستحکم توانائی کا شعبہ معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کو اگلے 2 سال تک سالانہ 22 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ درکار ہے جبکہ اس سال معاشی شرح نمو دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے سب سے کم رہے گی۔

 پاکستان میں رواں مالی سال معاشی شرح نمو 3.6 فیصد ہدف کے مقابلے 2.8 فیصد رہنے کا امکان ہے اگلے مالی سال معاشی ترقی کی رفتار بڑھ کر 3.2 فیصد ہو جائے گی جبکہ پاکستانی معیشت کو بھاری بیرونی فنانسنگ سمیت بلند خطرات کا سامنا ہے۔

 رواں سال مہنگائی کی اوسط شرح 11.1 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، ڈبل ڈیجٹ مہنگائی کی بڑی وجہ مقامی سطح پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اگلے مالی سال مہنگائی کم ہوکر 9 فیصد کے سنگل ڈجیٹ پر آجائے گی، رواں سال کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 0.6 فیصد اور اگلے سال 0.7 فیصد ہونے کا تخمینہ ہے جبکہ اس سال مالی خسارہ 6.8 فیصد سے بڑھ کر 7.6 فیصد تک جانے کا امکان ہے.

ویب ڈیسک Faiz alam babar

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیصد تک جانے کا پاکستان میں مالی سال غربت کی کی شرح بڑھ کر

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی