کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ مالی سال 2022-23 سے 2025-26 تک کا عرصہ پاکستان کی تاریخ کے لحاظ سے ترقی کے بدترین چار سال ثابت ہوئے۔

مفتاح اسماعیل کے مطابق حکومت معیشت کی بہتری کے لیے درکار ضروری اصلاحات کرنے پر آمادہ نہیں، جن میں نجکاری، وفاقی حکومت کے حجم میں کمی (غیر ضروری وزارتوں کا خاتمہ)، مؤثر بلدیاتی نظام یا چھوٹے صوبوں کی تشکیل، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں کمی، ٹیکس، بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی، کھاد کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کر کے براہِ راست کسانوں کی مدد شامل ہیں۔

حکومتی وزیر کاکہنا ہے کہ پنجاب، اسلام آباد تیار ہے الیکشن کمیشن تاخیر کررہا ہے،چیف الیکشن کمشنر کا بلدیاتی انتخابات سے متعلق فیصلہ آج سنانے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کے بجائے حکومت نے بھاری شرح سود، بھاری ٹیکسوں اور مہنگی یوٹیلیٹی سروسز کے ذریعے معیشت کو دبایا ہوا ہے، تاکہ کم شرح نمو کے بدلے میں وقتی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

مفتاح اسماعیل نے خبردار کیا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں ملک میں بے روزگاری، غربت اور سیاسی بےگانگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: مفتاح اسماعیل

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ