الیکٹرک گاڑیوں کے اہداف کو بنیادی ڈھانچے اور پالیسی سے متعلق رکاوٹوں کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
منگل کے روز آٹو موٹیو سیکٹر کے مکالمے میں صنعت سے وابستہ ماہرین نے کہا کہ اگرچہ نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی (این ای وی پی) 30-2025 کے تحت مقرر کردہ اہداف کافی پرجوش ہیں، لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے سبز نقل و حرکت (گرین موبلٹی) کی جانب مرحلہ وار اور عملی انداز میں پیش رفت زیادہ قابلِ حصول ہے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق کراچی میں انڈس کنسورشیم کے زیرِ اہتمام منعقدہ پروگرام ’شفٹنگ گیئرز: لانچ آف آٹوموٹیو اسٹڈی اینڈ اسٹیک ہولڈرز ڈائیلاگ‘ میں شریک افراد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ عوامی چارجنگ انفرااسٹرکچر کی کمی، گاڑیوں کی بلند ابتدائی لاگت، اور بجلی کی پیداوار میں فوسل فیول (ایندھن) پر انحصار جیسے عوامل پیش رفت میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
مقررین نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت صرف 35 عوامی چارجنگ اسٹیشنز موجود ہیں، جو خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت اور نیپال کے مقابلے میں بہت کم ہیں، ساتھ ہی ملک کی 60 فیصد بجلی اب بھی فوسل فیول سے حاصل کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر قومی گرڈ کو ڈی کاربنائز نہ کیا گیا تو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی اخراجات (emissions) کو کم کرنے کے بجائے صرف ان کا مرکز تبدیل کرے گی۔
تقریب میں انڈس کنسورشیم اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی مشترکہ تحقیقی رپورٹ ’گرین ٹرانزیشن — بیریئرز اینڈ اپرچیونیٹیز فار دی آٹوموٹیو انڈسٹری ان پاکستان‘ بھی پیش کی گئی، جس میں سبز تبدیلی (گرین ٹرانزیشن) کے دوران درپیش رکاوٹوں اور مواقع دونوں پر روشنی ڈالی گئی۔
اس موقع پر اسٹیک ہولڈرز نے زور دیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کو پائیدار طور پر اپنانے کے لیے لوکلائزیشن (مقامی پیداوار)، گرین گرڈ اور بیٹری ری سائیکلنگ جیسے اقدامات نہایت ضروری ہیں۔
صنعتی نمائندوں نے تسلیم کیا کہ کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) کی جانب سے ہائبرڈ گاڑیوں کی مقامی اسمبلی اور چینی کمپنی بی وائی ڈی کی متوقع شمولیت کو صاف توانائی پر مبنی گاڑیوں کی مقامی پیداوار کی سمت مثبت قدم قرار دیا گیا۔
سی ای او انڈس موٹر کمپنی علی اصغر جمالی نے کہا کہ ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں (پی ایچ ای ویز) کو بھی گرین موبلٹی کے تسلسل کا حصہ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ صرف بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کو، چونکہ ملک کی 60 فیصد سے زائد بجلی فوسل فیول سے پیدا ہو رہی ہے، اس لیے صرف ای ویز پر منتقل ہونے سے قلیل مدتی ماحولیاتی فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔
سی ای او انڈس کنسورشیم حسین جرار نے کہا کہ اگر مالی معاونت اور انفرااسٹرکچر سے متعلق مسائل حل کر لیے جائیں تو این ای وی پی ایک کامیاب ماڈل بن سکتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان میں سولر ٹیکنالوجی کے فروغ میں دیکھا گیا تھا۔
سابق چیئرمین پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پی اے اے پی اے ایم) عامر اللہ والا نے کہا کہ ای وی کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لیے مقامی پرزہ جات کی تیاری ناگزیر ہے، انہوں نے آئندہ برسوں میں بیٹریوں کے ضائع ہونے سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ایف پی سی سی آئی سے محمد ارمغان نے بتایا کہ مطالعے میں آئی ایم سی کی سپلائی چین کے اسکوپ تھری امیشنز پر توجہ دی گئی ہے اور ممکنہ ڈی کاربنائزیشن کے راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے، انہوں نے زور دیا کہ ہدفی پالیسی اقدامات، جیسے مالی مراعات، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور گرین فنانسنگ کے ذریعے اس شعبے کی تبدیلی کو تیز کیا جا سکتا ہے۔
شرکا نے پالیسی کے تسلسل، ای وی انفرااسٹرکچر کے فروغ، اور مالی معاونت کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا تاکہ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
بی وائی ڈی کی شمولیت اور مقامی اسمبلی کے منصوبے
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے حبکو حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد رپورٹ کیا کہ چینی آٹو ساز کمپنی بی وائی ڈی کو پاکستان میں توقع سے زیادہ مثبت ردعمل ملا ہے، یہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی ای وی برانڈ کے طور پر کام کر رہی ہے، اور اس کی ایس یو وی Atto 3 کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بی وائی ڈی کی گاڑیوں کی مقامی اسمبلی 2026 کی دوسری ششماہی میں شروع ہونے کی توقع ہے، کمپنی چھوٹی کاروں سے لے کر ایس یو وی تک مکمل رینج متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے اور ان ماڈلز کو ترجیح دے رہی ہے، جنہیں ایسے صارفین استعمال کر سکیں جو اپنے گھروں پر پرائیویٹ چارجنگ یونٹس نصب کر سکیں۔
مزید برآں، بی وائی ڈی پاکستان کی پہلی قومی سطح کا ای وی چارجنگ نیٹ ورک قائم کر رہی ہے، جو کراچی سے پشاور موٹروے تک پھیلا ہوگا، تاکہ لمبی مسافت کی ای وی کے استعمال کو ممکن بنایا جا سکے۔
انتظامیہ کے مطابق مستقبل میں پاکستان سے رائٹ ہینڈ ڈرائیو مارکیٹس کو گاڑیوں کی برآمد کا امکان بھی موجود ہے، تاہم فی الحال توجہ پلانٹ کی ترقی پر مرکوز ہے، اس منصوبے میں دو بین الاقوامی مالیاتی شراکت دار بھی شامل ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بی وائی ڈی گاڑیوں کی نے کہا کہ رہی ہے
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :