بھارتی فورسز کے حریت رہنمائوں اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کارروائیوں کے دوران پولیس اہلکاروں نے جائیداد کے کاغذات، بینک دستاویزات، مذہبی کتابیں اور تاریخی لٹریچر قبضے میں لے لیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے شوپیاں اور اسلام آباد اضلاع کے مختلف علاقوں میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور حریت رہنمائوں کی رہائش گاہوں پر دوبارہ چھاپے مار کر تلاشی لی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے متعدد دیہات اور شوپیاں سمیت ملحقہ علاقوں میں جماعت اسلامی سمیت متعدد حریت رہنمائوں کی رہائشگاہوں پر چھاپے مارے۔ کارروائیوں کے دوران پولیس اہلکاروں نے جائیداد کے کاغذات، بینک دستاویزات، مذہبی کتابیں اور تاریخی لٹریچر قبضے میں لے لیا۔ مکینوں کو گھنٹوں تک اذیت اور پوچھ گچھ کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ بھارتی قابض فورسز نے آزادی پسند سرگرمیوں کو روکنے کے لیے جاری مہم کے تحت گزشتہ روز بھی اسی طرح کے چھاپے مارے تھے۔ ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں بھارتی فورسز کی چھاپوں کی جاری کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے ان کارروائیوں کو کشمیریوں کو خوف و دہشت کا نشانہ بنانے اور حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کی بھارت کی منظم مہم کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے جابرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا اور وہ اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی فورسز
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔