پنجاب حکومت کالوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن تشکیل دینےکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ کمیشن پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت قائم کیا جائے گا اور اسے اہم مالیاتی اختیارات حاصل ہوں گے۔ وزیر خزانہ پنجاب اس کمیشن کے چیئرمین ہوں گے جبکہ وزیر بلدیات کو چیئرمین کی غیر حاضری میں کو چیئرمین کے طور پر اجلاس کی صدارت کا اختیار ہوگا۔
سپیکر پنجاب اسمبلی کی مشاورت سے چھ ارکان اسمبلی کو کمیشن میں شامل کیا جائے گا۔ محکمہ خزانہ، بلدیات اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے سیکریٹریز بھی اس کمیشن کا حصہ ہوں گے۔کمیشن میں مقامی حکومتوں اور مالیات کے چار ماہرین شامل کیے جائیں گے جن میں کم از کم ایک خاتون کی شمولیت لازمی قرار دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مقامی حکومت سے ایک سربراہ کو نامزد کریں گے جو کمیشن میں شامل ہوگا۔
گندم پالیسی کا نیا ڈرافٹ چاروں صوبوں کو رائے کے لیےبھجوادیاگیا
کمیشن ضرورت کے تحت کسی ماہر کو مشاورتی حیثیت میں شامل کر سکتا ہے تاہم مشاورتی رکن کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ کمیشن کے فیصلے کسی نشست کے خالی ہونے یا ساختی نقص کی بنیاد پر غیر مؤثر قرار نہیں دیے جا سکیں گے۔
اراکین کو حکومت کی جانب سے مقررہ معاوضہ اور الاؤنسز دیے جائیں گے جن میں مدت کے دوران کمی نہیں کی جا سکے گی۔
کمیشن کو مالیاتی اختیارات تفویض کیے گئے ہیں جن کے تحت وہ صوبائی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے فارمولے تیار کرے گا، مقامی حکومتوں کی آمدنی و اخراجات کا سالانہ جائزہ لے گا اور پنجاب حکومت کو مالیاتی سفارشات پیش کرے گا۔
لاہور بورڈ کا امتحانی پرچوں کی ری چیکنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کا فیصلہ
کمیشن مقامی حکومتوں کے لیے فنانس ایوارڈ جاری کرے گا جس کے تحت فنڈز کی تقسیم کا فارمولا طے کیا جائے گا۔ بلدیاتی اداروں کے محصولات و ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے تجاویز دی جائیں گی اور مالیاتی شفافیت و نظم و ضبط کے فروغ کے لیے سفارشات پیش کی جائیں گی۔
کمیشن مقامی حکومتوں کے ترقیاتی بجٹ کی نگرانی کرے گا اور بلدیاتی اداروں کے قرضوں اور گرانٹس پر اپنی رائے بھی دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 مقامی حکومتوں مقامی حکومت کے تحت کے لیے کرے گا
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔