پنجاب اسمبلی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ ‘مقامی حکومت پنجاب 2025’ کا مسودہ قانون منظور کر لیا، جب کہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

بل کی منظوری کے دوران ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے مسلسل شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ اپوزیشن ارکان نے اجلاس کی کارروائی ٹی ایل پی کے احتجاجی مظاہروں اور تشدد کے واقعات کے باعث موخر کرنے کی اپیل کی۔

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی نے معین ریاض قریشی کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا

اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے کہا کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، لہٰذا ایجنڈا ملتوی کیا جائے۔ تاہم حکومت نے اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر نعرے بازی کرتے رہے اور مسودہ بل کی کاپیاں ہوا میں لہراتے رہے۔ اس دوران ایوان کا ماحول خاصا کشیدہ رہا۔

قائم مقام اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے اپوزیشن کے شدید شور شرابے کے باوجود بل کی منظوری دے دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اپوزیشن احتجاج بل پنجاب اسمبلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن پنجاب اسمبلی پنجاب اسمبلی

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی