بار بار احتجاج کے سبب اسلام آباد کی بندش، حکومت اس عمل کو کیسے روک سکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
اپریل 2016 میں پانامہ پیپرز کے منظرِ عام پر آنے اور اس میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کا ذکر آنے کے بعد پاکستان تحریک اِنصاف نے برسرِاقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف تحریک تیز تر کردی تھی۔
اِسی پس منظر میں پاکستان تحریک اِنصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے اکتوبر 2016 میں اعلان کیاکہ اگر نواز شریف کے خلاف قانونی اقدامات نہیں کیے جاتے تو وہ 2 نومبر 2016 کو اسلام آباد بند کردیں گے جسے انہوں نے اِسلام آباد لاک ڈاؤن کا نام دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کے احتجاج سے ملکی معیشت کو کتنا نقصان پہنچا؟
اس درخواست پر اِسلام آباد ہائیکورٹ نے کیا فیصلہ کیا تھا، اس پر جانے سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ 2012 میں پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے سے لے کر اب تک اِسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری آئے روز سڑکوں کی بندش سے سخت پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں۔
جب مریض اسپتال نہیں جا سکتے، بچے اسکول اور ملازمت پیشہ افراد دفاتر نہیں جا سکتے۔ یہ صورتحال جہاں شہریوں کی آزادنہ نقل و حمل کے بنیادی حق کو متاثر کرتی ہے وہیں بڑے پیمانے پر معاشی نقصان کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
9 اکتوبر کو پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں کو کنٹینرز کی بڑی بڑی دیواریں کھڑی کرکے ایک قید خانے میں بدل دیا گیا جہاں شہریوں کی نقل و حمل شدید ترین متاثر ہوئی۔ جڑواں شہروں کے رہنے والے اب کچھ تو اس صورتحال کے عادی بھی ہو چکے ہیں لیکن اِس سے بیزار بھی نظر آتے ہیں۔
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کے دوران کنٹینرز لگا کر سڑکیں اور شاہراہیں بند کرنا ایک عام حکمت عملی بن چکی ہے، جو بنیادی طور پر مظاہرین کو ریڈ زون تک رسائی روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
یہ اقدام 2014 سے زیادہ واضح ہوا، جب پاکستان تحریک انصاف کا طویل دھرنا ہوا۔ اس کے بعد سے خاص طور پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے موقع پر شہر کو ’کنٹینر سٹی‘ بنا دیا جاتا ہے، جس سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، ٹریفک، تعلیم اور کاروبار بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
اسلام آباد لاک ڈاؤن پر کیا فیصلہ ہوا؟31 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکم جاری کیاکہ پاکستان تحریک انصاف اپنا احتجاج اسلام آباد میں احتجاج کے لیے مختص جگہ ’ڈیموکریسی پارک اینڈ اسپیچ کارنر‘ جو پریڈ گراؤنڈ شکر پڑیاں کے نام سے معروف ہے وہاں کر سکتی ہے لیکن شہر کی بندش کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اِسلام آباد ہائیکورٹ نے کہاکہ پُرامن احتجاج بنیادی حق ہے لیکن شہریوں کی آزادانہ نقل و حمل بھی بنیادی حق ہے، جسے روکا نہیں جا سکتا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا جس نے فیصلہ دیا کہ احتجاج کے لیے کسی مخصوص جگہ کی پابندی نہیں لگائی جا سکتی لیکن انتظامیہ پرامن احتجاج کے لیے انتظامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ شہری زندگی مفلوج نہ ہو۔
لیکن شہری زندگی مفلوج نہ کرنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات پر کبھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
پاکستان عوامی تحریک کا 2012 کا احتجاج
پاکستان عوامی تحریک نے 2012 میں اپنے سربراہ طاہر القادری کی سربراہی میں اسلام آباد کا رُخ کیا اور کئی دن تک اِسلام آباد کا بلیو ایریا مفلوج رہا۔
پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے 2014 کے حکومت مخالف دھرنے کے موقع پر شہر کی مرکزی سڑکوں جیسے جناح ایونیو، آئی جے پی روڈ کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا، اور یہ دھرنا 126 دن تک جاری رہا، جس نے شہر کو مفلوج کردیا۔
نومبر 2017 میں ٹی ایل پی کا فیض آباد دھرنانومبر 2017 میں تحریک لبیک پاکستان نے فیض آباد میں دھرنا دیا، اس موقع پر فیض آباد انٹرچینج اور جُڑواں شہروں کے انٹری پوائنٹس پر کنٹینرز لگائے گئے، اس دوران مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئین۔
اکتوبر 2020 میں ٹی ایل پی کا فرانس کے خلاف احتجاجاکتوبر 2020 میں تحریک لبیک پاکستان نے ایک بار پھر فرانس کے خلاف احتجاج کی کال دی۔ اس موقع پر شہر کی کلیدی سڑکوں (جی ٹی روڈ، مارگلہ روڈ) پر کنٹینرز لگائے گئے اور ریڈزون کو سیل کیا گیا۔
مئی 2022 میں پی ٹی آئی کا احتجاجمئی 2022 میں پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان حکومت کے خاتمے کے خلاف احتجاج کیا، اس موقع پر جناح ایونیو، ڈی چوک اور انٹری پوائنٹس پر کنٹینرز لگائے گئے، احتجاج کے دوران مظاہرین نے میٹرو اسٹیشن توڑے اور درختوں کو آگ لگائی۔
مئی 2023 میں پی ٹی آئی کا عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج
مئی 2023 میں پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا، اس دوران بھی ریڈ زون اور جڑواں شہروں کی شاہراہوں پر کنٹینرز کی دیواریں بنائی گئیں، جس کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ستمبر 2024 میں پی ٹی آئی کا مخصوص نشستوں کے خلاف احتجاجستمبر 2024 میں پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کے خاتمے کے خلاف احتجاج کیا۔ اس موقع پر مختلف سڑکوں سری نگر ہائی وے، چائنا چوک پر کنٹینرز لگائے گئے، جس کے باعث شہری زندگی مفلوج ہوئی۔
اکتوبر 2024 میں پی ٹی آئی کا ڈی چوک دھرنااکتوبر 2024 میں پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لیے ڈی چوک میں دھرنا دینے کا اعلان کیا، اس موقع پر بھی کنٹینرز کی دیواریں کھڑی کی گئیں، اور عوام مشکلات کا شکار رہے۔
نومبر 2024 میں پی ٹی آئی کا دھرنانومبر 2024 میں پی ٹی آئی نے ایک بار پھر عمران خان کی رہائی کے لیے ڈی چوک میں دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ پشاور سے نکلنے والے مارچ کی قیادت علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کررہے تھے۔ اس دوران بھی قریباً 4 روز تک راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کی زندگی مفلوج رہی۔
اب ایک بار پھر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا فلسطین کی حمایت میں ’لبیک یا اقصیٰ‘ مارچ جاری ہے، جس کے باعث 9 اکتوبر سے جڑواں شہروں کے تمام داخلی پوائنٹس بشمول فیض آباد، جی ٹی روڈ، مارگلہ روڈ کنٹینرز سے بلاک ہیں، اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق یا اقوام متحدہ کا انٹرنیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کا آرٹیکل 19 اور 21 احتجاج کے حق کو تین شرائط کے ساتھ تسلیم کرتا ہے۔
اس میں پہلے نمبر پر یہ ہے کہ احتجاج کا قانونی جواز ہونا چاہیے، دوسرا احتجاج کسی جائز مقصد کے تحت یعنی قومی سلامتی، عوامی نظم، صحت عامہ یا دوسروں کے حقوق کا تحفظ کے لیے ہو، اور تیسرا اُس میں ضرورت اور تناسب کا خیال رکھا جائے۔
آرٹیکل 19 اور 21 بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق احتجاج کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن اسے تین شرائط کے تحت محدود کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کو اہل غزہ سے ہمدردی نہیں، احتجاج مذہبی سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے، سوشل میڈیا پر بحث
اس طرح سے یونائیٹڈ نیشنز یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس بھی حدود و قیود کے ساتھ احتجاج کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔
اس کے علاوہ یورپی اور امریکی کنونشنز بھی احتجاج کے حق کو شرائط کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews احتجاج کا حق اسلام آباد احتجاج پی ٹی آئی دھرنا ٹی ایل پی مارچ راستوں کی بندش وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احتجاج کا حق اسلام ا باد احتجاج پی ٹی ا ئی دھرنا ٹی ایل پی مارچ راستوں کی بندش وی نیوز پر کنٹینرز لگائے گئے پاکستان تحریک انصاف پاکستان عوامی تحریک سلام ا باد ہائیکورٹ تحریک لبیک پاکستان کے خلاف احتجاج کی پاکستان تحریک ا احتجاج کے حق کو میں پی ٹی ا ئی عمران خان کی جڑواں شہروں ا سلام ا باد میں پاکستان زندگی مفلوج اسلام ا باد شہریوں کی ٹی ایل پی پی ٹی آئی کی بندش ڈی چوک کے لیے
پڑھیں:
نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔
نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔
پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثراتہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
امریکی حکومت کا مؤقفامریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔
تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل
لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟
اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا