لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
لاہور:
بھارت کی طرف سے آنے والی ہواؤں اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔
ادارہ تحفظ ماحولیات پنجاب (ای پی اے) اور اسموگ و موسمیاتی نگرانی کے جدید نظام کے تحت حاصل اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 211 ریکارڈ کیا گیا ہے، جو انسانی صحت کے لیے ’’انتہائی غیر صحت مند‘‘ زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
آئی کیو ائیر کے مطابق لاہور آج دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔
ای پی اے کے مطابق بھارت سے داخل ہونے والی آلودہ ہوا نے فضا میں معلق ذرات (پارٹیکیولیٹ میٹر) کی مقدار میں اضافہ کیا، جس سے لاہور کا فضائی معیار تیزی سے بگڑ گیا۔ اس وقت ہوا کی رفتار ایک سے تین کلو میٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے، جس کی وجہ سے آلودہ ذرات فضا میں معلق رہنے کے بجائے زمین کے قریب جمع ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے نظام کے مطابق جمعرات کی صبح سات بجے تک بھارتی دارالحکومت دہلی کا اے کیو آئی 228، افغانستان کے دارالحکومت کابل کا 173 اور بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کا 163 ریکارڈ کیا گیا، جب کہ لاہور 211 کے ساتھ ان شہروں سے بھی زیادہ آلودہ فضا میں شامل ہوگیا۔
آئی کیو ایئر کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور پہلے جبکہ بھارتی شہر کولکتہ دوسرے اور دہلی تیسرے نمبر پر ہے۔ آئی کیوائیر کے مطابق دوپہر ایک بجے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈکس 174، کولکتہ کا 154 اور دہلی کا 149 ریکارڈ کیا گیا۔
ای پی اے پنجاب کی رپورٹ کے مطابق رات 12 بجے سے صبح 7 بجے تک گجرات میں اے کیو آئی 228، گجرانوالہ 226، لاہور 211، قصور 182، نارووال 177، ڈیرہ غازی خان 166، فیصل آباد 161، منڈی بہاالدین 159، حسن ابدال اور سیالکوٹ 157، ساہیوال 147، ملتان 144، بھکر 143، مظفر گڑھ 140، سیالکوٹ (دوسرا اسٹیشن) 133، چکوال 129، راولپنڈی 127 اور رحیم یار خان میں 98 ریکارڈ کیا گیا۔
پنجاب بھر کا اوسط اے کیو آئی 160 رہا، جو عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مقرر کردہ معیار سے کہیں زیادہ ہے۔
اسموگ مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق صبح 6 سے 11 بجے تک فضاء میں آلودگی کی شدت سب سے زیادہ رہی جبکہ دوپہر 12 سے شام 5 بجے تک معمولی بہتری متوقع ہے، اور اے کیو آئی 145 سے 160 کے درمیان رہ سکتا ہے۔ تاہم شام 6 سے رات 11 بجے کے دوران دوبارہ آلودگی بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے دوران انڈیکس 160 سے 185 تک جا سکتا ہے۔
ماہرین نے شہریوں، خصوصاً حساس گروپس جیسے بچوں، بوڑھے افراد، حاملہ خواتین اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ کھلی فضا میں جانے سے گریز کریں، گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں، اور غیر ضروری طور پر سڑکوں یا کھلے مقامات پر قیام نہ کریں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’’ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ کو روکنے میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریکارڈ کیا گیا اے کیو آئی کے مطابق بجے تک
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔