قیصر کھوکھر : پنجاب پبلک سروس کمیشن نے محکمہ پنجاب پولیس میں انسپکٹر لیگل (اسپیشلسٹ کیڈر) کی تحریری امتحان کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔
ترجمان کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 235 آسامیوں کے لیے تحریری امتحان منعقد کیا گیا تھا جس میں سے 1797 امیدوار نے پہلا مرحلہ کامیابی سے پاس کر لیا ہے۔ سیکرٹری پنجاب پبلک سروس کمیشن افضال احمد نے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے.

 نیو سول کے لیجنڈ گلوکار ڈی اینجیلو 51 سال کی عمر میں چل بسے

ترجمان پنجاب پبلک سروس کمیشن کے مطابق، حکومتِ پنجاب کے محکمہ پولیس میں انسپکٹر لیگل (Specialist Cadre) کی تحریری امتحان کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔یہ امتحان 21 ستمبر 2025 کو منعقد ہوا جس میں امیدواروں نے پاکستان پینل کوڈ، ضابطہ فوجداری، قانونِ شہادت اور اینٹی ریپ ایکٹ سے متعلق پیپرز دیے۔اس امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدوار اب دوسرے مرحلے یعنی انگلش اور اردو مضمون نویسی کے پرچوں میں حصہ لیں گے۔
کامیاب امیدواروں کی تفصیلی فہرست پنجاب پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔کامیاب امیدواروں میں حمیرا, شیزا منظور, فرحین مختار, حافظہ عرشیا شاہین, انعم شہزادی, نمرہ عاشق, ثروت شوکت, سائرہ خالد, سیدہ فاطمہ عدا بخاری, زوبیہ ظفر شامل ہیں. انسپکٹر لیگل کے لیے 3381 امیدواروں نے تحریری امتحان میں حصہ لیا.

 بھارت معرکہ حق میں شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں :آئی ایس پی آر

Ansa Awais Content Writer

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پنجاب پبلک سروس کمیشن

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع