لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اکتوبر2025ء) پنجاب اسمبلی میں بلدیاتی اداروں کے حوالے سے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025 ء کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ،اپوزیشن نے بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑا دیں ، پیپلز پارٹی بھی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بیانات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس سے واک آئوٹ کیا ،وزیر خزانہ و پارلیمانی امور پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حافظ فرحت عباس کو چیلنج کیا کہ اگر مذہبی جماعت کے 282لوگ شہید ہوئے تو پھر میں استعفیٰ دیدوں گا وگرنہ حافظ فرحت استعفیٰ دیں، یہ کوئی طریقہ کار نہیں کہ اسمبلی فلور پر کھڑے ہوکر جھوٹ بولیں،1900لوگ زخمی ہوئے تو وہ کہاں گئے ہسپتال تو خالی پڑے ہیں۔

(جاری ہے)

پنجاب اسمبلی کااجلاس 3 گھنٹے 42منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر ملک ظیر اقبال چنڑ کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس کے آغاز پر پاک افغان جنگ میں پاک افواج کے شہدا اور شہید ایس ایچ او ، سردار غضنفر علی لنگا کے بھائی اور میاں مرغوب کی اہلیہ کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کی توجہ دلانا چاہتا ہوں، آج پنجاب جل رہا ہے، آج پنجاب کے اندر امن و امان کی صورتحال خراب ہے، ہر طرف لاشیں بکھری پڑی ہیں، کل مرید کے میں خون کی ہولی کھیلی گئی ہمارے چیئرمین نے سکھایا جہاں ظلم ہو وہاں مظلوم کا ساتھ دیں، ہمارا سیاسی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ہم ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے، خدا کے لیے آپ لوگوں نے جیسے بھی حکومت بنائی آج پنجاب کے عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، کوئی تو ہو جو ہماری آواز بنے،میں درخواست کرتا ہوں خدارا اس ملک پر رحم کریں۔

معین ریاض قریشی نے کہا کہ خیبرپختونخوا بہت حساس صوبہ ہے وہاں جس کی اکثریت ہے اسے حکومت بنانے دی جائے، آج تمام حکومتی بزنس معطل کرکے پنجاب میں امن و امان پر بات کی جائے۔صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی جماعت سے درخواست کرتے ہیں کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، ہم بات کرنے کے لیے تیار ہیں، ایک مذہبی تنظیم کو انتشار پھیلانا زیب نہیں دیتا، پولیس اور سکیورٹی کے لوگوں پر حملے کیے جا رہے ہیں، ایک انسپکٹر شہید ہو چکا ہے یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے، اس واقعے کو اپوزیشن نو مئی سے نہ ملائے نو مئی کو پاکستاں پر حملہ کیا گیا تھا۔

نو مئی وہ دن تھا جب پاکستان و ریاست پر حملہ کیا گیا، نو مئی پر بھارتی میڈیا نے کہاکہ وہ ایک سیاسی جماعت نے کردیا جو ہم چاہتے تھے، دفاعی و عسکری اداروں جناح ہاس سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا گیا، نو مئی والوں کو قرار واقعی سزا ملے گی، پی ٹی آئی دور میں تحریک لبیک نے پاکستان کو بند کیا تھا تب بھی ان کے بارہ لوگوں کو شہید کیاگیا اس کا لہو کہاں تلاش کریں ہم افہام و تفہیم سے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعت نے جس طرح پنجاب میں کارروائی شروع کی اس سے لوگ تنگ ہیں، لوگ ہسپتال ،اسکولوں کالجوں میں جانے سے بیٹھے ہوئے ہیں، پرتشدد طریقوں سے مذہبی تنظیم کو یہ بات زیب نہیں دیتی۔حکومت پنجاب کی جانب سے مذہبی جماعت سے درخواست کریں گے کہ یہ کوئی طریقہ کار نہیں کہ آپ امن و امان خراب کررہے ہیں، افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔

اپوزیشن نے ایجنڈا معطل کرکے پنجاب میں مذہبی جماعت کے خلاف آپریشن پر بحث کا مطالبہ کیا اور منظور نہ ہونے پر ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی، شرم کرو حیا کرو عمران کو رہا کرو کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیرائو کرلیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اچھال دیں۔حکومتی رکن رانا محمد ارشد نے اپوزیشن کو ڈاکو اور چور قرار دیدیا۔

ڈپٹی اپوزیشن لیڈر حافظ فرحت عباس نے کہا کہ جس طرح آپ نظام چلا رہے ہیں اس طرح چلے گا نہیں، ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ ہم مطالبہ کرتے ہیں ہر ادارہ اپنی حدود میں کام کرے، یہ نہیں ہو سکتا آپ ہر چیز میں ٹانگ اڑائیں، جب آپ روزگار چھین لیں گے انصاف ناپید کر دیں گے اور جب یہ دھند چھٹے گی تو پتا چلے گا تب تعین ہوگا آج جو حالات ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے، ہر چیز کی طرح اس واقعے کے ذمہ دار بھی یہی لوگ نکلیں گے۔

وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ سشجاع الرحمان نے تحریک انصاف پر طنز کیا کہ ان کا لیڈر خاتم النبین نہیں بول سکتا یہ ہمیں اسلام کا درس دیتے ہیں، اس پر اپوزیشن ایوان سے واک آئوٹ کرگئی۔اس موقع پر مجتبیٰ شجاع الرحمن نیحافظ فرحت کے سوال پر جواب دیتے ہوئے اپوزیشن رکن حافظ فرحت کو استعفیٰ کا چیلنج دیدیااور کہا کہ حافظ قرآن ہوتے ہوئے اسمبلی فلور پر جھوٹ بول رہے تھے ،کہاں 282لوگ شہید ہوئے ہیں، چیلنج کرتا ہوں کہ اگر مذہبی جماعت کے 282لوگ شہید ہوئے تو پھر میں استعفیٰ دیدوں گا وگرنہ حافظ فرحت استعفیٰ دیں،19سو لوگ زخمی ہوئے تو وہ لوگ کہاں گئے ہسپتال خالی پڑے ہیں، یہ کوئی طریقہ کار نہیں کہ اسمبلی فلور پر کھڑے ہوکر جھوٹ بولیں۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ نہیں بلکہ عمران نیازی خود سانحہ ماڈل ٹائون کا ذمہ دار ہے۔امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ پنجاب میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 70فیصد جرائم میں کمی آئی ہے ،کچھ اضلاع زیرو کرائم ریٹ پر چلے گئے ۔جبکہ یہ کے پی کا دعویٰ تو کریں وہاں تو کرپشن کی داستانیں ہیں اور زیرو ڈلیورنس ہے، کے پی کے لوگوں کو انہوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے، یہ جنرل فیض جنرل باجوہ کی باقیات ہیں، کے پی حکومت میں فارم سینتالیس والے بیٹھے ہیں ہم سب لوگ الیکشن جیت کر آئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما ممتاز علی چانگ نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کا حصہ ہیں لیکن ہمیں حکومت سے تحفظات ہیں، میڈیا کے ذریعے ہمیں پتا لگا وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا پنجاب بھی میرا پیسہ بھی میرا پانی بھی میرا، ہم وزیر اعلیٰ پنجاب کی بطور خاتون عزت کرتے ہیں لیکن ان کی یہ بات غلط تھی، ہم اسمبلی میں جائز بات کرتے ہیں مگر ہمیں رگڑا لگایا جاتا ہے، ہماری پارلیمانی لیڈر کو طالبان سے خطرہ ہے لیکن ان کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی، ہمیں سیدھا انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ ہم ان کے اتحادی ہیں۔

ممتاز علی چانگ نے کہا کہ ہمارے لیڈروں نے قربانیاں دی ہیں آپ ان کا مقابلہ کرتے ہیں، 2022 میں ہم نے عدم اعتماد میں آپ کا ساتھ دیا، ہمارے ساتھ انتقامی کارروائی نہ کریں، ہم ڈرنے والوں سے نہیں ہیں ہم اصولوں کی بات کریں گے، ہم چاہتے ہیں بلدیاتی الیکشن ہوں لیکن تمام ممبران کے اس بل سے متعلق تحفظات دور ہونے چاہئیں، ہم واک آٹ کر رہے ہیں، جب تک ہمارے تحفظات دور نہیں کیے جاتے ہیں ہم ایوان کا حصہ نہیں بنیں گے۔

یہ کہہ کر پیپلز پارٹی بھی پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے واک آئوٹ کرگئی،پیپلز ارٹی کے تین ممبران ایوان سے باہر چلے گئے۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومت نے مسودہ قانون لوکل گورنمنٹ پنجاب 2025 منظور کروا لیا۔ بل کو وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے پیش کیا۔اپوزیشن بل کی منظوری کے وقت واک آئوٹ کرکے ایوان سے باہر چلی گئی اور ان کی جانب سے پیش کردہ تمام ترامیم کو مسترد کردیاگیا تاہم بل کی منظوری کے آخر میں اپوزیشن ایوان میں واپس آگئی اور بل پر اپنے تحفظات کااظہار کیا لیکن سپیکر نے ان کے تحفظات کو یکسر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں اپوزیشن نے ایوان میں ایک بار پھر نعرے بازی شروع کردی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کرہوا میں پھینکتے رہے ۔

اپوزیشن بار بار اجلاس کی کارروائی مذہبی جماعت احتجاج کے باعث موخر کرنے کی اپیل کرتی رہی اور مطالبہ کیا کہ ایجنڈا ملتوی کیا جائے کیونکہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے تاہم قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود مسودہ قانون لوکل گورنمنٹ پنجاب 2025ء کی منظوری دیدیاجلاس میں محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے بارے میں پارلیمانی سیکرٹری رشدہ لودھی نے سوالوں کے جواب دیئے ۔

بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ رانا محمد ارشد نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دس مئی کو افواج پاکستان نے بھارت کو گھر میں شکست دی،مودی شکست برداشت نہ کر سکا تو آبی جارحیت پر اتر آیا،افغانی وزیر خارجہ بھارت گیا تو پاکستان کی سرحدوں پر افواج پاکستان کے بہادر بیٹوں پر حملہ کیاگیا، ازلی دشمن نے افغانستان سے پاکستان پر حملہ کرواکے ہمارے تیس جوانوں کو شہید کروایا، اگراپنے سے دس گنا بڑے بھارت کو اللہ کے فضل سے شکست دے سکتے ہیں تو افغانستان کی جانب سے دہشتگرد حملوں کا بھی بھرپور جواب دے سکتے ہیں، اقوام متحدہ فوری ایکشن لے بھارت کو غنڈہ گردی کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں، پاکستان کی سرحدوں پر امریکی اسلحہ استعمال کررہے ہیں تو بھارت یہ نہ بھولے کہ سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور بھرپور منہ توڑ جواب دیں گے،ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں جینا مرنا ان کے ساتھ ہے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ کے فضل و کرم سے کوئی نہیں شکست دے سکتا،افغانی بھائی ہوش کے ناخن لیں غنڈہ گردی مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔

حکومتی رکن احسن رضا خان نے پاک افغان کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھارت سے سرخرو ہوئے اب پاکستان میں دہائیوں سے جو دہشت گردی چل رہی ہے، افغانستان نے پاکستان پر حملہ کیا اس پر افواج پاکستان نے اس کا دفاع کیا بلکہ اندر گھس کر مارا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا جب بھی دور آیا وہ خوبصورت دور تھا ،معیشت آسمان پر اور مہنگائی کا قلع قمع ہوا،نوازشریف آج تک آئین پاکستان سے پیچھے نہیں ہٹے انہوں نے دائرہ میں رہ کر سیاست کی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں امن و امان آج سے بہتر نہیں ہوسکتا آج قبضہ گروپوں بدمعاشوں کا قلع قمع ہو رہا ہے،کوئی فکر نہ کرے پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہے پاکستان خوشحالی کی جانب لوٹ آیا ہے۔ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایجنڈے کی کاپیاں کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان یہ کوئی طریقہ لوکل گورنمنٹ پنجاب اسمبلی نے ایوان میں پر حملہ کیا حافظ فرحت طریقہ کار کرتے ہیں کار نہیں کی جانب شہید ہو رہے ہیں ہوئے تو نے پاک ہیں کہ

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور