پنجاب حکومت کا 500 ارب روپے کی عوامی فنڈز سے منافع بخش سرمایہ کاری کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے غیر استعمال شدہ عوامی فنڈز کو منافع بخش سرمایہ کاری میں استعمال کرنے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 500 ارب روپے کی خطیر رقم کیش مینجمنٹ فنڈ میں بطور سرمایہ کاری مختص کر دی ہے۔
محکمہ خزانہ کے حکام کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران اس سرمایہ کاری سے 12 ارب روپے تک منافع حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ پورے سال میں 30 ارب روپے کا منافع حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ
گزشتہ مالی سال میں بھی پنجاب حکومت نے 400 ارب روپے صوبائی خزانے سے سرمایہ کاری کی صورت میں استعمال کیے تھے، جس کے نتیجے میں 13 ارب روپے کا منافع حاصل ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب سرکاری محکموں کی بچی ہوئی غیر استعمال شدہ رقم کو صوبائی آمدنی بڑھانے کے لیے منظم طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے، جو کیش فلو کو بہتر بنانے اور مالی نظم و ضبط قائم رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن رہا ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق کیش مینجمنٹ فنڈ پنجاب حکومت کے مالی وژن کا اہم ستون ہے جس کا مقصد صرف منافع حاصل کرنا نہیں بلکہ بجٹ خسارہ کم کرنا اور مالی استحکام کو یقینی بنانا بھی ہے۔
پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کیلئے ای پی اے کا بڑا اقدام
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 پنجاب حکومت سرمایہ کاری منافع حاصل ارب روپے
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔