جی 20 اجلاس: فلسطین، سوڈان، یوکرین اور کانگو کے تنازعات کے منصفانہ حل کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
جی 20 اجلاس: فلسطین، سوڈان، یوکرین اور کانگو کے تنازعات کے منصفانہ حل کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 November, 2025 سب نیوز
جوہانسبرگ:(آئی پی ایس ) جی 20 کے سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں فلسطین، سوڈان، یوکرین اور کانگو کے تنازعات کے منصفانہ حل کا مطالبہ کیاگیا ہے۔
جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کی تنظیم جی 20 کا 2 روزہ سربراہی اجلاس شروع ہوگیا۔
پہلے روز کے بعد مشترکا اعلامیہ میں فلسطین، سوڈامن، یوکرین اور کانگو تنازع کے منصفانہ حل کا مطالبہ کیا گیا اور اقوام متحدہ منشور کے مطابق ان تنازعات کے منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیہ میں دنیا میں اہم معدنیات کی سپلائی کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
امریکا نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا، اجلاس میں اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، بھارتی وزیراعظم مودی اور دیگرعالمی رہنما شریک ہوئے ہیں۔
رواں برس جی 20 اجلاس کی تھیم یکجہتی، مساوات اور پائیداری ہے اور یہ 2 روزہ اجلاس پہلی بار جنوبی افریقا میں ہوا ہے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ میں اسرائیلی فوج کے مسلسل حملے جاری، حماس نے ثالثوں سے فوری مداخلت کی اپیل کردی غزہ میں اسرائیلی فوج کے مسلسل حملے جاری، حماس نے ثالثوں سے فوری مداخلت کی اپیل کردی پاک افغان سرحدی بندش؛ افغانستان کو کتنے ملین ڈالر کا نقصان ہونے لگا؟ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے وفد کا اسکانکم کا دورہ جی 20 سربراہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ، فلسطین، سوڈان، یوکرین، کانگو تنازع کے منصفانہ حل کا مطالبہ جو بھی ہمارے جوانوں کو شہید کرتا ہے وہ دہشتگرد ہے، انکے خاتمے کے سوا کوئی آپشن نہیں: سہیل آفریدی پاکستان میں نئی انٹرنیٹ کیبل بچھا دی گئی، کنیکٹیویٹی میں بہتری آئے گیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے منصفانہ حل کا مطالبہ تنازعات کے منصفانہ
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔