چین نے مائیکروسافٹ کو خیرباد کہہ دیا، سرکاری دستاویزات مقامی سافٹ ویئر میں منتقل
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
چین نے سرکاری سطح پر مائیکروسافٹ ورڈ (Microsoft Word) فارمیٹ کو ترک کرتے ہوئے مقامی WPS فارمیٹ اپنایا ہے۔ یہ قدم چین اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی و ٹیکنالوجی کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:توانائی کے صاف اور قابلِ تجدید ذرائع کا استعمال، چین امریکا پر بازی لے گیا
چینی وزارتِ تجارت کی جانب سے حال ہی میں نایاب معدنیات (Rare Earths) کی برآمدات پر نئی پابندیوں سے متعلق دستاویز صرف WPS فائل فارمیٹ میں جاری کی گئی، جو امریکی سافٹ ویئر پر براہِ راست نہیں کھولی جا سکتی۔
نئی برآمدی پابندیاں اور سیکیورٹی خدشاتچین نے گزشتہ ہفتے کئی اہم معدنیات کی برآمدات پر نئی پابندیاں عائد کیں، جنہیں سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ پابندیاں قومی سلامتی کے نام پر نافذ کی گئی ہیں اور ان کے تحت برآمدی لائسنس کے قواعد مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
یہ اقدام رواں سال کے اوائل میں ہائی ٹیک مٹیریلز پر عائد پہلی کھیپ کی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی ردِعمل اور تجارتی خطراتامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے اس اقدام پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے چینی مصنوعات پر 100 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔
یہ بھی پڑھیں:ہالی ووڈ فلمیں بھی امریکا چین ٹیرف جنگ کی زد میں آگئیں
انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن تمام اہم سافٹ ویئرز کی برآمدات پر پابندی پر غور کر رہا ہے۔
غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی واپسیگزشتہ چند سالوں میں کئی غیر ملکی کمپنیوں نے چین میں اپنی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں۔
Adobe اور Citrix (Cloud Software) پہلے ہی چینی مارکیٹ سے تقریباً نکل چکی ہیں، جبکہ Microsoft نے شنگھائی میں اپنا AI ریسرچ لیب بند کر دی ہے اور مین لینڈ چین میں اپنے تمام اسٹورز بھی ختم کر دیے ہیں۔
چینی کمپنیوں کا ہدف: مقامی خودکفالتستمبر میں چینی ریگولیٹرز نے بڑی مقامی کمپنیوں کو Nvidia کے AI چِپس کی خریداری اور ٹیسٹنگ منسوخ کرنے کی ہدایت دی۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق، چین کی چِپ بنانے والی کمپنیاں ملک میں AI پروسیسرز کی پیداوار تین گنا بڑھانے کا ہدف رکھتی ہیں تاکہ مکمل ٹیکنالوجیکل خودمختاری حاصل کی جا سکے۔
ٹیکنالوجی جنگ کا نیا محاذچین کا مائیکروسافٹ فارمیٹ چھوڑنا صرف ایک ٹیکنیکل فیصلہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل خودمختاری کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین امریکا تعلقات سنگین ہوگئے، چینی وزیر خارجہ نے خطرہ کی گھنٹی بجادی
ماہرین کے مطابق یہ اقدام امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی چین کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جو مستقبل میں عالمی سافٹ ویئر مارکیٹ کا منظرنامہ تبدیل کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا چین سافٹ ویئر مائیکروسافٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا چین سافٹ ویئر مائیکروسافٹ سافٹ ویئر یہ بھی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔