پہلگام جیسے حملوں کا امکان ہے، آپریشن سندور کا دوسرا مرحلہ ہلاکت خیز ہوگا، بھارتی فوج کی بھڑکیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
بھارتی فوج کے مغربی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کاتیار نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھارت سے براہِ راست جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں، تاہم وہ پہلگام جیسے دہشت گرد حملوں کی کوششیں دوبارہ کرسکتا ہے، بھارتی ردِعمل ‘آپریشن سندور 2.0’ ماضی سے زیادہ ہلاکت خیز اور طاقتور ہوگا۔
لیفٹیننٹ جنرل کاتیار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اپنی ہزار زخموں کے ذریعے بھارت کو کمزور کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ پاکستان کے پاس جنگ لڑنے کی سکت نہیں، وہ محاذ آرائی نہیں چاہتا بلکہ شرپسندانہ کارروائیوں سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ہم پوری طرح تیار ہیں، اور اس بار ردِعمل ماضی سے زیادہ شدید ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن سندور پر فلم بنتی اس سے پہلے ہی پاکستان نے پہلگام فالس فلیگ پر ڈراما بنادیا
ایک سوال پر کہ آیا آپریشن سندور 2.
بھارتی جنرل نے دعویٰ کیا کہ آپریشن سندور میں پاکستان کو بھاری نقصان پہنچایا گیا، اس کی چوکیوں اور فضائی اڈوں کو تباہ کیا گیا، تاہم پاکستان مستقبل میں پھر ایسی کارروائی کی کوشش کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری طرح تیار ہیں، اور یقین ہے کہ اس بار کا ردعمل زیادہ سخت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: مودی کی ایشیا کپ میں فتح کو ’آپریشن سندور‘ سے تشبیہ، ’بھارت ذلت آمیز شکست کبھی نہیں بھول سکتا‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، وہ دوبارہ دہشت گردانہ حملے کی کوشش کرسکتا ہے، لیکن بھارتی فوج چوکس ہے اور ہر ناپاک عزائم کو ناکام بنائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا پاکستان پہلگام واقعہ سندور
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا پاکستان پہلگام واقعہ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔