مخلوق خدا کی خدمت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر کے سرخرو ہونا خوش قسمتی کی علامت ہے، المیہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں سیاسی کارکنوں کا اپنا وجود، حیثیت اور جدوجہد تسلیم کروانے کیلئے مرنا پڑتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ آزاد جموں و کشمیر کے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ سیاسی کارکن کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہوتی ہے، مخلوق خدا کی خدمت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر کے سرخرو ہونا خوش قسمتی کی علامت ہے، المیہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں سیاسی کارکنوں کا اپنا وجود، حیثیت اور جدوجہد تسلیم کروانے کیلئے مرنا پڑتا ہے، راجہ نصیر احمد خان کا تعلق سیاسی کارکنوں کے اُس قبیل سے تھا جو عوام کیلئے جئے اور عوام کیلئے ہی مرے، لوکل کونسلر کی حیثیت سے سیاسی کا سفر شروع کر کے وزارت لوکل گورنمنٹ تک پہنچنا اور اپنے حلقہ انتخاب کے عوام کی جانب سے بار بار اعتماد سے نوازا جانا منفرد کردار کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے انتقال سے مسلم لیگ کے کارکن ناقابل برداشت صدمہ اور جماعت ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہوئی، یہ سیاسی خلاء طویل عرصہ محسوس ہوتا رہے گا۔

راجہ نصیر احمد خان موروثیت کے خلاف جدوجہد کی اور اپنے حلقہ انتخاب سمیت ضلع کوٹلی بالخصوص اور آزادکشمیر بھر کے مسلم لیگی کارکنوں کیلئے نئی کرن روشن کرنے کا باعث بنے، مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ نواز کے نظریہ کی ساری زندگی ترویج کی، سابق وزیر بلدیات راجہ نصیر احمد کی خدمات کے حوالے سے میڈیا کیلئے جاری بیان میں چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ راجہ نصیر احمد خان کے ساتھ خلوص ، اعتماد اور بھائی چارے کا تعلق تھا جو ان کے انتقال تک قائم رہا، راجہ نصیر احمد خان نے ہیپاٹائٹس جیسی موذی بیماری کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور زندگی کی آخری سانس تک عوام کی خدمت کیلئے مصروف رہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز آزاد کشمیر تک دائرہ کار بڑھانے کے حوالے سے ان کا کردار تاریخ کا حصہ ہے، مسلم لیگ نواز کو مضبوط، منظم اور متحرک رکھنے کیلئے بھی راجہ نصیر احمد خان کا کردار تاریخ میں امر ہو چکا ہے، ان کی موت پاکستان مسلم لیگ کیلئے ناقابل تلافی نقصان کے مترادف ہے جب کہ مسلم لیگی کارکنوں کیلئے یہ صدمہ ناقابل برداشت ہے۔ 

ان کی سیاسی خدمات کا سفر طویل اور صبر آزماء جدوجہد پر محیط ہے، اسلام آباد میں ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی تھی اس لیے سرساوہ نہیں جا سکا، مسلم لیگ اور دیگر سیاسی قیادت کی جانب سے ان کی آخری رسومات میں شرکت اور نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کا موجود ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ راجہ نصیر احمد خان مقبول ترین رہنما تھے۔ ان کا سفر آخرت بھی تاریخی ثابت ہوا، 1996ء سے 2016ء تک بحیثیت ممبر اسمبلی اور وزیر بلدیات ان کا عوام کے ساتھ براہ راست رابطے استوار کرنا ان کی جداگانہ سیاست اور منفرد کردار کا واضح ثبوت ہے، محکمہ لوکل گورنمنٹ کے ذریعے راجہ نصیر احمد خان نے مسلم لیگی کارکنوں اور عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آخری منزلیں آسان کرے، چوہدری طارق فاروق کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ دور میں جب کہ سیاسی کارکن پر ہر جانب سے الزام تراشی کی جا رہی ہے، راجہ نصیر احمد خان کی نماز جنازہ اور میت کے آبائی علاقہ پہنچنے کے مناظر ثابت کرتے ہیں کہ ایک مخلص، باکردار اور باوقار سیاسی کارکن عوام کے دلوں پر راج کرتا ہے، راجہ نصیر احمد خان نے زندگی بھرپور انداز میں گزاری، سیاست باوقار انداز میں عوام کی خدمت کیلئے وقف رکھی، ان کے حلقہ کے عوام ان کے انتقال کا صدمہ اور ناقابل تلافی نقصان کے حوالے سے حساس صورتحال سے دوچار ہیں، سیاسی کارکنوں پر تنقید کرنے والے راجہ نصیر احمد خان کے سفر آخرت اور کردار سے سبق سیکھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیاسی کارکنوں کی خدمت کیلئے سیاسی کارکن طارق فاروق مسلم لیگ سیاسی کا عوام کی

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم