چارسدہ ،معصوم بچی کوجنسی زیادتی کےبعد قتل کردیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 اکتوبر2025ء) چارسدہ کےتھانہ تنگی کی حدود عمر خان کلے گنڈھیری میں8سالہ بچی کو جنسی زیادتی کے بعد گلے میں پھندا ڈال کر قتل کردیا گیا۔ترجمان چارسدہ پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ محمد وقاص خان فوری طور پر جائے وقوعہ اور ہسپتال پہنچ گئے، جہاں انہوں نےحالات کاجائزہ لیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ڈی پی اوچارسدہ محمد وقاص خان نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی انوسٹی گیشن چارسدہ عالمزیب خان کی سربراہی میں ڈی ایس پی تنگی عبدالرشید خان، ایس ایچ او تنگی نوشیروان خان سمیت دیگر افسران پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دے دی۔ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کرتے ہوئے ملوث ملزم یا ملزمان کو جلد از جلد ٹریس کرکے گرفتار کیا جائے۔(جاری ہے)
ڈی پی او چارسدہ نے کہا کہ بچی کے ساتھ پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ انتہائی دلخراش ہے، ملزم کو کسی صورت قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ پولیس اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔چارسدہ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔