data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251015-08-16
لاہور (نمائندہ جسارت) صوبہ پنجاب کے تمام ٹول پلازوں پر پرچی سسٹم ختم کرکے مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اس بات کا فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کے تمام 38 الیکٹرونک
ٹول پلازوں پر موٹروے کی طرز پر ون ایپ ون سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ اجلاس میں 5 بڑی شاہراہوں کی تعمیر، مرمت اور بحالی کے منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے کی منظوری دی گئی، نجی ادارے ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوں گے۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ای ٹینڈرنگ سسٹم کے ذریعے پنجاب حکومت نے 40 ارب روپے کی تاریخی بچت حاصل کی ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے میں تعمیر ہونے والی نئی سڑکوں پر سولر اسٹریٹ لائٹس لگانے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور بیوٹی فکیشن پروجیکٹس کی بھی منظوری دی، منصوبوں کے تحت ریلوے اسٹیشن، داتا دربار، مصری شاہ، اک موریہ اور دوموریہ پل کی تزئین و آرائش کی جائے گی، جبکہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے پارک میں فوارہ اور بچوں کے لیے منی ٹرین چلائی جائے گی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اجلاس میں

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا