پنجاب: پرچی سسٹم ختم، ٹول پلازوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-08-16
لاہور (نمائندہ جسارت) صوبہ پنجاب کے تمام ٹول پلازوں پر پرچی سسٹم ختم کرکے مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اس بات کا فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کے تمام 38 الیکٹرونک
ٹول پلازوں پر موٹروے کی طرز پر ون ایپ ون سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ اجلاس میں 5 بڑی شاہراہوں کی تعمیر، مرمت اور بحالی کے منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے کی منظوری دی گئی، نجی ادارے ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوں گے۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ای ٹینڈرنگ سسٹم کے ذریعے پنجاب حکومت نے 40 ارب روپے کی تاریخی بچت حاصل کی ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے میں تعمیر ہونے والی نئی سڑکوں پر سولر اسٹریٹ لائٹس لگانے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور بیوٹی فکیشن پروجیکٹس کی بھی منظوری دی، منصوبوں کے تحت ریلوے اسٹیشن، داتا دربار، مصری شاہ، اک موریہ اور دوموریہ پل کی تزئین و آرائش کی جائے گی، جبکہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے پارک میں فوارہ اور بچوں کے لیے منی ٹرین چلائی جائے گی۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
پاکستان رائٹ ٹو انفارمیشن سسٹم ڈیجیٹلائز کرے: آئی ایم ایف
اسلام آباد ( عترت جعفری ) آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کو رائٹ ٹو انفارمیشن سسٹم کو ڈیجیٹلائز کرنا چاہئے آن لائن درخواست دائر کرنے کی سہولت اور مانیٹرنگ ہونی چاہیے تاکہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات کے حوالے سے عمل درآمد ایک نظام الاوقات کے اندر ہو‘ پاکستان انفارمیشن کمیشن کام کر رہا ہے جو پاکستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن سسٹم میں سہولت دیتا ہے‘ ملک میں کوئی بھی شہری اپنی آر ٹی آئی ریکویسٹ متعلقہ حکومتی ادارے کو دیتا ہے اور اگر اس کی درخواست پر عمل نہ ہو تو وہ انفارمیشن کمیشن میں اپیل کر سکتا ہے‘ تاہم ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ آر ٹی آئی درخواستوں پر تیزی سے عمل نہیں کیا جاتا اور بعض اثتثنیات لے کر انہیں مسترد کر دیا جاتا ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ شفافیت کے لیے او جی پی شمولیت کے لیے دوبارہ عمل کا آغاز کرے شائستہ پرویز نے وزارت خزانہ سے یہ سوال کیا ہے کہ کیا وزارت خزانہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کیا پالیسی اختیار کرئے گی کہ تمام ضمنی گرانٹس پارلیمنٹ میں پیش ہوں اور ان پر بحث کی جائے جیسا کہ آئی ایم ایف نے اپنی سفارشات میں بھی کہا ہے کہ ضمنی گرانٹس کی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے۔