پاکستانی وزارتِ دفاع اور سیکیورٹی ذرائع نے بعض بھارتی اور افغان میڈیا کی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ خبر مکمل طور پر جھوٹی اور من گھڑت ہے جس کی کوئی حقیقی یا سفارتی بنیاد موجود نہیں۔ پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی ویزا درخواست نہ اب دی گئی اور نہ ماضی میں کی گئی۔

مزید پڑھیں: کراچی میں افغان بستی کو 40 سال بعد مسمار کرنے کا آپریشن شروع

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کہانی دراصل بھارتی اور افغان میڈیا کے اشتراک سے تیار کردہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد جھوٹی معلومات کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانا ہے۔

اعلیٰ سفارتی ذرائع کے مطابق، حقیقت یہ ہے کہ ویزا درخواستیں افغان جانب سے موصول ہوئیں، نہ کہ پاکستان کی طرف سے، لیکن بھارتی میڈیا نے حقائق کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

پاکستانی حکام نے کہا کہ یہ واقعہ بھارتی اور افغان اطلاعاتی حلقوں کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو حالیہ سرحدی ناکامیوں اور سفارتی دباؤ سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹی خبریں گھڑ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک فوج کا اسپن بولدک اور چمن سیکٹر میں بھرپور جواب، افغان طالبان نے جنگ بندی کی درخواست کر دی

پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے، جب کہ بعض قوتیں غلط معلومات اور پروپیگنڈا کے ذریعے خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، یہ جھوٹی خبر انڈیا ٹوڈے اور چند افغان ویب سائٹس پر شائع کی گئی، جسے بعد میں متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بغیر تصدیق کے پھیلایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

india today آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک افغان طالبان حکومت افغان میڈیا انڈیا ٹوڈے پاکستانی وزارتِ دفاع سیکیورٹی ذرائع گودی میڈیا وزیر دفاع خواجہ محمد آصف.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان طالبان حکومت افغان میڈیا پاکستانی وزارت دفاع سیکیورٹی ذرائع گودی میڈیا وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

پڑھیں:

وزیراعلی مراد علی شاہ کی سندھ اسمبلی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کی سخت مذمت

سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر طرح کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، دریائے سندھ پر پاکستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ اسمبلی کی قرارداد وفاقی حکومت کو بھیجی جائے تاکہ قومی سطح پر مضبوط مؤقف پیش کیا جاسکے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کو اشتعال انگیز، بے بنیاد اور خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے خلاف پیش کی گئی مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اس قرارداد کو خود بھی پیش کرنا چاہتے تھے کیونکہ بھارتی وزیر دفاع نے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی کہ شاید صوبہ سندھ میں ہندو برادری عدم تحفظ کا شکار ہے، جو کہ گمراہ کن اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ہے، میں 1947ء یا انگریز دور کی بات نہیں کر رہا، 624ء میں بھی سندھ موجود تھا، جس میں ملتان اور مکران بھی شامل تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کا دارالخلافہ سیہون رہا ہے اور اس خطے کا وجود بہت قدیم ہے، اس وقت کئی موجودہ ممالک وجود میں بھی نہیں آئے تھے جب سندھ ایک پہچان کے ساتھ قائم تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انگریز دور میں سندھ کو سازش کے تحت بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کیا گیا، تاہم 1936ء میں مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر جدوجہد کر کے سندھ کو الگ حیثیت دلوائی۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ مسلم لیگ کے سندھ چیپٹر نے سب سے پہلے پاکستان بنانے کی تحریک کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں 1947ء میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ اور مودی حکومت کی بوکھلاہٹ حالیہ بھارتی ناکامیوں اور خطے میں سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

مراد علی شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہوں نے سوچا شاید بھارتی وزیر دفاع کو سندھ کا درد اس لیے ہورہا ہو کہ وہ یہاں کے ہوں، مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ راج ناتھ سنگھ اور ان کے والد دونوں بھارتی ریاست اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کبھی سندھو کا پانی نہیں پیا، اسی لیے ایسے غیرذمہ دارانہ بیانات دیتے ہیں، سندھو کا پانی پینے والا اپنی دھرتی سے غداری نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کو ختم کرنے کی دھمکی بھی مایوسی اور شکست کا اعتراف ہے، بھارت دریاؤں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے جواب کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ سندھو ہمارا ہے اور ہمیشہ ہمارا ہی رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر طرح کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے تجویز دی کہ دریائے سندھ پر پاکستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ اسمبلی کی قرارداد وفاقی حکومت کو بھیجی جائے تاکہ قومی سطح پر مضبوط مؤقف پیش کیا جاسکے۔ اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے، اسے پاکستان سے جدا کرنا تو دور، اس کی سرحدوں میں معمولی تبدیلی بھی ممکن نہیں، سندھ ہمیشہ متحد رہے گا اور پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان؛ امن کے لیے خطرہ
  • کراچی: ہندو برادری کا بھارتی وزیر دفاع کیخلاف احتجاج
  • سٹی کونسل کراچی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کیخلاف میں قرارداد جمع
  • کے ایم سی سٹی کونسل میں بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان کے خلاف قرارداد جمع
  • پاکستانی سائبر ماہرین کی رپورٹ میں سرکاری افغان اکاؤنٹ کی تبدیلی بے نقاب ہوگئی
  • سندھ اسمبلی نے بھارتی وزیر دفاع کے متنازع بیانات کو مسترد کر دیا، متفقہ قرارداد منظور
  • پاکستانی ہندو کمیونٹی کی بھارتی وزیر دفاع کیخلاف بھارتی ہائی کمیشن کے باہر دھرنے کی دھمکی، متنازع بیان واپس لینے کیلئے تین دن کا الٹی میٹم
  • پاکستانی ہندو کمیونٹی کی بھارتی وزیر دفاع کیخلاف بھارتی ہائی کمیشن پر دھرنے کی دھمکی
  • بھارتی وزیرِ دفاع کے بیان کیخلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد متفقہ طور پر منظور
  • وزیراعلی مراد علی شاہ کی سندھ اسمبلی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کی سخت مذمت