26نومبر احتجاج؛ فرد جرم کی کارروائی اور مقدمہ چیلنج، علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری بھی منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
راولپنڈی:
بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے 26نومبر احتجاج کیس میں فرد جرم کی کارروائی اور مقدمہ چیلنج کر دیا جس پر فرد جرم کی کارروائی ٹل گئی۔
علیمہ خان نے عدالت کا دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کیا ہے۔
عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے علیمہ خان کے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے۔
درخواست میں موقف اپنایا کہ علیمہ خان پر احتجاج کا نہیں عمران خان تک پیغام پہنچانے کا الزام ہے، آئین ہر کسی کو بولنے کی اجازت دیتا ہے۔ پیغام پہنچانے پر دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے نہیں لگتی اور اگر پیغام پہنچانا دہشت گردی ہے تو یہ میڈیا نے بھی پیغام پہنچایا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام میڈیا کے دس پندرہ پرسنز کو بتایا اور میڈیا نے پوری قوم تک پھیلایا، اس الزام کے تحت پھر تو میڈیا بھی قصور وار بن گیا لہٰذا مقدمے سے دہشت گردی دفعہ 7 اے ٹی اے خارج کی جائے اور مقدمہ غیر قانونی ہے اسے خارج کیا جائے۔
عدالت نے درخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے سرکار اور پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کر دیا۔ علیمہ خان سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم کارروائی موخر کر دی گئی۔
عدالتی کارروائی کے بعد علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان کچہری سے اڈیالہ جیل روانہ ہوگئی۔
وکیل فیصل ملک کی گفتگو
انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی وکیل فیصل ملک نے کہا کہ علیمہ خان کا کیس 26 نومبر کے واقعے سے متعلق ہے، کیس فردِ جرم کے لیے آج عدالت میں فکس تھا۔
انہوں نے بتایا کہ عدالت کے اختیارِ سماعت کو چیلنج کر دیا ہے، عدالت کے پاس اس کیس کی جوریسڈکشن نہیں، عدالت میں مضبوط دلائل کے ساتھ درخواست جمع کروا دی ہے۔
وکیل فیصل ملک کا کہنا تھا کہ درخواست پر سماعت پیر کے روز ہونے کا امکان ہے، ہمارا مؤقف ہے کہ یہ کیس بنتا ہی نہیں، باقی تفصیلات بعد میں میڈیا سے شیئر کریں گے۔
واضح رہے کہ تھانہ صادق آباد 26 نومبر احتجاج کیس میں علیمہ خان کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے اور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر ان کی گرفتاری کا امکان تھا۔
عدالت پہنچنے پر صحافی نے سوال کیا تھا کہ میڈم آج پولیس بہت زیادہ کیوں آئی ہوئی ہے؟ علیمہ خان نے جواب دیا کہ مجھے گرفتار کرنے آئی ہوگی، اپنے بچے ہیں گرفتار کرنا ہے کر لیں۔
سانحہ 9 مئی کے 11 کیسز میں جی ایچ کیو گیٹ 4 حملہ کیس بھی شامل ہے۔ آرمی میوزیم پر حملہ وار میٹرو بس اسٹیشن جلانے کے مقدمات بھی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔