امریکا کے 5 بڑے میڈیا ہاؤسز نے پینٹاگون کی پابندیاں ماننے سے انکار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی میڈیا نے پینٹاگون کی جانب سے قومی سلامتی کے نام پر عائد کردہ نئے ضوابط کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں آزادیٔ صحافت کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دے دیا ہے۔
امریکہ کے پانچ بڑے نشریاتی اداروں اے بی سی، سی بی ایس، سی این این، این بی سی اور فاکس نیوز نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے پینٹاگون کے نئے تقاضوں کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بیان سی این این کمیونیکیشنز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا گیا جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ نئے قواعد صحافیوں کی قومی سلامتی سے متعلق آزادانہ رپورٹنگ کی صلاحیت کو محدود کرتے ہیں جو عوام کے جاننے کے حق اور شفاف جمہوریت کے اصولوں کے منافی ہے۔
pic.
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم ان ضوابط کو تسلیم نہیں کرتے جو صحافیوں کو امریکہ اور دنیا کو قومی سلامتی سے جڑے اہم معاملات سے آگاہ رکھنے سے روکیں۔
نیویارک ٹائمز نے بھی پالیسی کے الفاظ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم پینٹاگون کی بات چیت کی کوششوں کو سراہتے ہیں، لیکن پالیسی میں اب بھی مسائل باقی ہیں، اور ہمارا ماننا ہے کہ مزید تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔
رائٹرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اپنی قابلِ اعتماد، غیر جانب دار اور آزاد خبر رسانی کے عزم کے مطابق ہم اس پالیسی پر اپنے تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
اے بی سی نیوز اور فاکس نیوز نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
میڈیا اداروں کے مطابق نئی پالیسی کے تحت محکمہ دفاع کے اہلکاروں کو صحافیوں سے بغیر منظوری رابطہ کرنے پر ممکنہ مجرمانہ عمل سے جوڑا گیا ہے، جس سے محکمہ دفاع میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔
خبر رساں اداروں نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ آزاد، شفاف اور ذمہ دار صحافت کے اصولوں پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے، اور امریکی فوج و دفاعی اداروں کی رپورٹنگ اسی آزادی کے تحت جاری رکھیں گے۔
ذرائع کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے حالیہ ضوابط کا مقصد قومی سلامتی کے حساس معاملات پر معلومات کی اشاعت کو محدود کرنا ہے۔
تاہم میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پالیسی احتساب اور شفافیت کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے اور عوام کی درست معلومات تک رسائی کا راستہ بند ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ نئی پابندیاں موجودہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے دور میں عائد کی گئی ہیں، جو ماضی میں فاکس نیوز کے میزبان رہ چکے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ان کے دور میں میڈیا رسائی پر کنٹرول میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو شفافیت اور آزادانہ رپورٹنگ کے عالمی اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پینٹاگون کی قومی سلامتی کے مطابق
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :