data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ: چمن میں پاک افغان سرحد ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آگئی ہے، جہاں افغان فورسز نے بغیر کسی اشتعال کے پاکستانی حدود میں سول آبادی کو نشانہ بنایا۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ شب افغان فورسز نے چمن کے قریبی علاقوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 4 شہری زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

پاکستانی سیکورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان حدود میں ویش منڈی اور اسپن بولدک کے علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق جوابی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے، جس کے بعد افغانستان کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔

سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے انتہائی تحمل کے باوجود اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی، تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مقامی ذرائع کے مطابق اچانک شروع ہونے والی فائرنگ نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جس کے نتیجے میں آج اسکول  اور بازار بند کیے گئے ہیں جب کہ پولیو مہم کو بھی سیکورٹی خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔

فورسز نے سرحدی پٹی پر گشت میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بروقت جواب دیا جا سکے۔ حکام کے مطابق حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں اور سرحدی علاقوں میں فوجی دستوں کی موجودگی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فورسز نے کے مطابق

پڑھیں:

وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص افغان شہری نکلا

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایک شخص نے اہلکاروں پر اچانک فائرنگ کی جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔ دونوں زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور کو جائے وقوعہ سے گرفتار کرلیا گیا۔ امریکی حکام نے بتایا کہ گرفتار شخص کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے نام سے ہوئی ہے جو 2021 میں امریکہ آیا تھا۔

فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا جبکہ اطراف کے علاقے کو سیل کر کے شہریوں کو آئی اسٹریٹ سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی۔

امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ بائیڈن دور میں امریکہ میں داخل ہونے والے تمام غیر ملکیوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پیغام میں حملہ آور کو “جانور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل گارڈ پر حملہ کرنے کی سنگین قیمت چکانا ہوگی۔

زخمی اہلکاروں کا تعلق ریاست ویسٹ ورجینیا سے تھا۔ ویسٹ ورجینیا کے گورنر نے کہا ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔

فائرنگ کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر واشنگٹن کے رونالڈ ریگن ایئرپورٹ پر پروازوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا، تاہم کچھ دیر بعد معمول کی پروازیں بحال کر دی گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کی واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ کے واقعے کی مذمت
  • وائٹ ہاؤس کے پاس، افغان شہری کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی سارہ بیکاسٹرم کون تھیں؟
  • واشنگٹن میں افغان شہری کا حملہ: شدید زخمی نیشنل گارڈ خاتون جان کی بازی ہار گئی
  • ڈی آئی خان میں آپریشن ‘ 22 خوارج ہلاک
  • وائٹ ہاؤس فائرنگ کا واقعہ: امریکی فوج کا سابق افغان معاون حملہ آور کے طور پر گرفتار
  • وائٹ ہاؤس میں نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنے والا افغان شہری کون ہے؟ تازہ انکشافات سامنے آگئے
  • وائٹ ہاؤس میں نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنے والا افغان شہری کون ہے؟ تازہ انکشافات سامنے آگئے
  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ،نیشنل گارڈز زخمی، حملہ آور افغان شہری نکلا
  • وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص افغان شہری نکلا
  • وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ، 2 نیشنل گارڈ کے اہلکار شدید زخمی، مشتبہ افغان حملہ آور گرفتار