چمن میں افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے 4 شہری زخمی، پاکستان کا بھرپور جواب
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: چمن میں پاک افغان سرحد ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آگئی ہے، جہاں افغان فورسز نے بغیر کسی اشتعال کے پاکستانی حدود میں سول آبادی کو نشانہ بنایا۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ شب افغان فورسز نے چمن کے قریبی علاقوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 4 شہری زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پاکستانی سیکورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان حدود میں ویش منڈی اور اسپن بولدک کے علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق جوابی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے، جس کے بعد افغانستان کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔
سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے انتہائی تحمل کے باوجود اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی، تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اچانک شروع ہونے والی فائرنگ نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جس کے نتیجے میں آج اسکول اور بازار بند کیے گئے ہیں جب کہ پولیو مہم کو بھی سیکورٹی خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔
فورسز نے سرحدی پٹی پر گشت میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بروقت جواب دیا جا سکے۔ حکام کے مطابق حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں اور سرحدی علاقوں میں فوجی دستوں کی موجودگی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔