حماس نے سنوار برادران کی لاشوں سے متعلق خبروں کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں حماس کا کہنا تھا کہ فلسطین کی تمام زمین اس کے لوگوں کی ہے اور شہیدوں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہیں اس سرزمین کے کس حصے میں دفن کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" سے وابستہ تبیان نیوز ویب سائٹ نے ان رپورٹس کی تردید کی، جن میں کہا گیا کہ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات میں حماس نے شہید بھائیوں یحییٰ السنوار اور محمد السنوار کی لاشوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ تبیان نے واضح کیا کہ سنوار برادران کی لاشوں کی واپسی کی درخواست والی خبر جھوٹی اور غلط ہے۔ جسے موجودہ شرم الشیخ مذاکرات پر اثر انداز ہونے کے سلسلے میں شائع کیا گیا۔ حماس نے زور دے کر کہا کہ فلسطین کی تمام زمین اس کے لوگوں کی ہے اور شہیدوں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہیں اس سرزمین کے کس حصے میں دفن کیا گیا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی قوانین کے تحت شہیدوں کی لاشوں کو یرغمال بنانا ایک جرم ہے۔ یاد رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل اخبار نے آج صبح یہ دعویٰ کیا کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تناظر میں حماس نے شرم الشیخ مذاکرات میں مطالبہ کیا کہ شہید "یحییٰ السنوار" اور ان کے بھائی شہید "محمد السنوار" کی لاشیں ہمارے حوالے کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی لاشوں
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔