بچے جب اسکول سے گھر لوٹے تو ان کے ہاتھوں میں کوری ماؤنٹ اسکول کا سہ ماہی رسالہ تھا۔ میں نے یونہی وقت گزاری کے لیے اس کے اوراق پلٹنے شروع کیے تو ایک اشتہار پر نگاہ ٹھہر گئی۔
اشتہار میں تحریر تھا:
’ذہنی اور جسمانی معذور بچوں کے لیے فوسٹر کیریئرز کی فوری ضرورت۔
تین ماہ کا مفت کریش پروگرام، اسمارٹ تنخواہ، اور تربیت کے اختتام پر روزگار کے مواقع۔‘
نیچے ایک رابطہ نمبر اور ادارے کا پتا درج تھا۔
دل میں تجسس جاگا، فوراً نمبر ملایا۔ دوسری جانب سے نہایت عجلت بھری آواز سنائی دی، جیسے انہیں واقعی فوری طور پر لوگوں کی ضرورت ہو۔ چند رسمی سوالات کے بعد اگلے ہی روز کے لیے میرا انٹرویو طے کر لیا گیا۔
دوسری صبح میں نے اپنی 2 سالہ بیٹی کو پرام میں بٹھایا اور وقتِ مقررہ پر دفتر پہنچ گئی۔ یہ ادارہ لیڈز سٹی کونسل کے ماتحت تھا، اور حیرت انگیز طور پر وہاں قریباً ایک چوتھائی ملازمین پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔
انٹرویو لینے والی خاتون بھی پاکستانی نژاد تھی۔ نرم گفتار، مگر نہایت پیشہ ور۔ انہوں نے میرے کاغذات دیکھے، چند رسمی سوالات کیے، اور مسکراتے ہوئے کہا:
’آپ کل سے ہی کورس جوائن کر سکتی ہیں۔ ہم آپ کی بچی کو ڈے کیئر میں شامل کر دیتے ہیں تاکہ آپ بآسانی اپنی تربیت مکمل کر سکیں۔‘
یوں اگلے ہی دن سے میرا 3 ماہ کا کریش پروگرام شروع ہوا۔ کورس کے دوران جو کچھ سکھایا گیا، وہ میرے لیے بالکل نیا اور کئی لحاظ سے چونکا دینے والا تھا۔ تربیت میں نہ صرف معذور بچوں کی جسمانی ضروریات، بلکہ ان کے نفسیاتی رویوں، سیکھنے کے انداز، سماجی شمولیت، اور والدین کی رہنمائی سے متعلق گہرے نکات شامل تھے۔
مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی ذہنی و جسمانی معذور بچوں کی دیکھ بھال کس قدر پیچیدہ اور ذمہ دارانہ عمل ہے اور یہ کہ ریاست اس حوالے سے کس قدر منظم اور حساس ہے۔
تاہم جو بات سب سے زیادہ حیران کن تھی، وہ یہ حقیقت کہ برطانیہ میں پاکستانی نژاد خاندانوں میں معذور بچوں کی شرح دیگر نسلی گروہوں کے مقابلے میں خاصی زیادہ تھی۔
تربیت دینے والی ماہرین نے بتایا کہ اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں قریبی رشتہ داروں کے درمیان شادیوں کا رواج، جینیاتی بیماریوں کی منتقلی، اور بعض اوقات صحت و تعلیم کی آگاہی کا فقدان شامل ہیں۔
یہ بات میرے لیے نہ صرف نیا انکشاف تھی بلکہ فکر انگیز بھی کہ ہماری برادری میں اس قدر اہم مسئلہ موجود ہے، مگر ہم میں سے بیشتر اس پر بات کرنے یا مدد حاصل کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
ان 3 مہینوں کی ٹریننگ اور پھر اس شعبے میں 2 سال وہاں ملازمت نے مجھے نیا سماجی شعور دیا۔
برطانیہ سے اسلام آباد واپسی پر میں نے ایک ایسے ادارے میں کام شروع کیا جو ذہنی یا سیکھنے میں دشواری رکھنے والے بچوں یعنی لرننگ وِد ڈس ایبلٹی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ غیر منافع بخش بنیادوں پر چل رہا تھا، اور یہاں ہر عمر، ہر طبقے اور مختلف سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچے شامل تھے۔
کوئی بچہ آٹزم کا شکار تھا، کوئی ڈاؤن سنڈروم کا، کوئی مرگی سے نبرد آزما تھا تو کوئی ڈس لیکسیا سے، کسی کو بولنے یا سمجھنے میں دشواری تھی، اور کوئی ایسا تھا جو صرف تھوڑا سا پیار اور توجہ مانگتا تھا تاکہ وہ باقی دنیا کے ساتھ قدم ملا سکے۔
شروع کے چند دنوں میں ہی مجھے احساس ہوا کہ یہ تجربہ برطانیہ میں گزارے گئے وقت سے بالکل مختلف ہونے والا ہے۔ برطانیہ میں میں نے دیکھا تھا کہ ریاست، معاشرہ، اور خود والدین تینوں ایک منظم دائرے میں مل کر کام کرتے ہیں۔
معذور بچے وہاں شرمندگی نہیں، ذمہ داری سمجھے جاتے ہیں۔
اسکولوں میں خصوصی تربیت یافتہ اساتذہ، ہر بچے کے لیے انفرادی تعلیمی منصوبے، نفسیاتی مشیر، اسپیچ تھراپسٹ، آکیوپیشنل تھراپی اور سرکاری سطح پر فراہم کی جانے والی مالی معاونت، سب ایک مربوط نظام کا حصہ ہیں۔
حتیٰ کہ فوسٹر کیریئرز اور رضاکار تنظیمیں بھی ریاستی نگرانی میں کام کرتی ہیں تاکہ کسی بھی بچے کو محرومی یا تنہائی کا احساس نہ ہو۔
لیکن پاکستان لوٹنے کے بعد منظر بالکل مختلف تھا۔ یہاں ایسے بچوں کے ساتھ معاشرہ نہیں، بلکہ بے حسی چلتی ہے۔ اکثر والدین خود اپنے بچوں کو گھروں میں چھپا لیتے ہیں کہ کہیں لوگ کیا کہیں گے۔ کئی اسکول ایسے بچوں کو داخلہ دینے سے صاف انکار کر دیتے ہیں، اور جو ادارے ان کے لیے کام کر رہے ہیں وہ وسائل، تربیت یافتہ عملے، اور ریاستی توجہ، تینوں سے محروم ہیں۔
یہاں معذوری کو اب بھی عیب سمجھا جاتا ہے، بیماری نہیں۔ ایک بچے کی مشکل، پورے خاندان کی شرمندگی بن جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مسئلہ صرف سہولتوں کا نہیں، رویے کا بھی ہے۔
جہاں برطانیہ میں فوسٹر کیریئرز کو تربیت، مالی امداد اور سماجی احترام حاصل ہوتا ہے، وہیں پاکستان میں ایسے کام کرنے والے افراد کو قابل قدر سمجھنے کے بجائے تضحیک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ والدین کو بھی نہ رہنمائی ملتی ہے، نہ نفسیاتی سپورٹ۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے بچے جو درست تھراپی یا رہنمائی سے عام زندگی گزار سکتے ہیں، وہ عمر بھر محرومی اور سماجی تنہائی کا شکار رہتے ہیں۔
برطانیہ میں کام کرتے ہوئے میں نے سیکھا تھا کہ معذوری انسانی کمزوری نہیں، بلکہ سماجی نظام کا امتحان ہے اور وہ نظام جو اپنے کمزور ترین فرد کا خیال رکھتا ہے، دراصل سب سے مضبوط ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں ہم نے اس امتحان میں خود کو اب تک تیار ہی نہیں کیا۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے کئی ذہنی و جسمانی معذور افراد کے لیے ادارے بنا کر ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔
لیکن ابھی بھی ملک میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان معذوریوں کی وجوہ پر بھی بات کرنی چاہیے۔
اس کی سب سے اہم وجہ قریبی رشتہ داروں کی آپس میں شادیاں ہیں جو بچوں میں ڈاؤن سنڈروم، تھیلیسیمیا، مائیکرو سیفلی، آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر، اور بعض دیگر نیورولوجیکل بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔
دوسری بڑی وجہ دوران حمل کے دوران ماں کی غیر متوازن غذا، فولک ایسڈ یا آئرن کی کمی، یا کسی انفیکشن (مثلاً روبیلا، ٹاکسوپلاسموسس، زیکا وائرس) کا اثر بچے کی دماغی یا جسمانی نشوونما پر پڑتا ہے۔ دورانِ حمل تمباکو نوشی، الکحل یا ادویات کا بے جا استعمال بھی بچے کے دماغی خلیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ بلڈ پریشر، ذیابطیس، یا تھائیرائڈ جیسے امراض اگر ماں میں قابو میں نہ رہیں تو بچے کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔
وقت سے پہلے پیدا ہونا یا بچے کا وزن کم ہونا۔
پیدائش کے دوران دماغ میں آکسیجن کی کمی۔
زچگی میں تاخیر، یا غلط ڈلیوری کا طریقہ بھی دماغی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔
بچپن کے امراض اور حادثات
میننجائٹس (دماغی جھلیوں کی سوزش) یا (دماغی سوزش) دماغ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
سر کی چوٹ، غیر متوازن غذا یا وٹامنز کی کمی بھی مستقل جسمانی یا ذہنی معذوری کا باعث بن سکتی ہے۔
سماجی عوامل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے جس میں غربت، والدین کی ناخواندگی، اور صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی۔ نفسیاتی دباؤ، گھریلو تشدد یا غفلت بچوں کے ذہنی توازن پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
ابتدائی تعلیم یا سماجی میل جول کی کمی بھی سیکھنے میں دشواری کا باعث بن سکتی ہے۔
ہمیں معذوری کو جرم یا شرم نہیں بلکہ ایک انسانی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔
اگر ہم نے اپنی سماجی ترجیحات میں ان بچوں اور ان کے والدین کے لیے جگہ نہ بنائی تو ہم ایک ایسا معاشرہ بن جائیں گے جہاں ذہنی یا جسمانی معذوری سے زیادہ خطرناک چیز احساسِ تنہائی ہوگی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
صنوبر ناظر ایک متحرک سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔ تاریخ میں ماسٹرز کر رکھا ہے جبکہ خواتین کی فلاح اور مختلف تعلیمی پراجیکٹس پر کام کر چکی ہیں۔ کئی برس سے قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے باقاعدگی سے لکھتی ہیں۔
wenews احساس ذمہ داری بچے بحالی کے ادارے برطانیہ پاکستان معذوری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بچے بحالی کے ادارے برطانیہ پاکستان وی نیوز برطانیہ میں معذور بچوں سکتی ہے کے لیے کی کمی کام کر
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔