عمران خان کا پیغام پہنچانے پر اگر میں ملزم ہوں تو پھر کل پوری قوم ملزم بنے گی، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
راولپنڈی:
سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ آج اگر عمران خان کا پیغام پہنچانے پر میں ملزم ہوں تو پھر کل پوری قوم ملزم بنے گی۔
کچہری میں میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ کل جس کسی کی بات پسند نہیں آئے گی اس کے خلاف مقدمہ بنا دیا جائے گا، بتایا جائے میڈیا ٹاک سے کون سی دہشت گردی نکلتی ہے اور یہی آئینی قانونی نکتہ ہم نے عدالت چیلنج کیا ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ مجھ پر الزام ہنگامے کا نہیں بلکہ عمران خان کا پیغام پہنچانے کا ہے، میں نے 10 سے 15 صحافیوں اور یوٹیوبرز کو عمران خان کا پیغام پہنچایا۔ میڈیا نے پوری قوم تک پہنچا دیا پھر تو میڈیا بھی میرے ساتھ ملزم ہوگیا، پھر میڈیا کو بھی میرے ساتھ مقدمے میں شامل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح عمران خان اور ان کے کیسز ہیں، ہم جیل میں ملاقات کرنے ٹرائل پر جاتے ہیں اور وارنٹ نکال دیے جاتے ہیں۔ یہ ظلم کی فضا ہم عدالتوں میں چیلنج کر کے ختم کروائیں گے، آئین پاکستان مجھے اور ہر پاکستانی کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ہم پر 60 سے 70 کیسز ہیں، کبھی پنڈی تو کبھی اسلام آباد سے وارنٹ نکال دیے جاتے ہیں، یہ ظلم اور خوف کی فضا ختم کرنا ہوگی، ہم ڈرنے والے نہیں۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمران خان کا پیغام علیمہ خان
پڑھیں:
عمران کا بال بھی بیکا ہوا تو دیکھنا، عوام انکا کیا حال کریگی، علیمہ، فاتحہ خوانی پر برہم
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان پر فاتحہ پڑھنے والی بات کرنے والوں کو شرم نہیں آتی؟ کس نے کہا فاتحہ پڑھ لو! اگر عمران خان کا بال بھی ٹوٹا تو پھر دیکھیں عوام ان کا کیا حال کرے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ بدمزگی ہم نے نہیں پولیس اہل کاروں نے کی تھی، پولیس سے کہا آپ بھی ہمارے بچے ہو ہم کسی طرح بدنظمی نہیں چاہتے، پورے پاکستان کی پولیس، بیورو کریسی اور اداروں کے اندر لوگ دل سے ہمارے ساتھ ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ جوان بچوں کا غصہ دیکھ کر مجھے ڈر لگ رہا ہے، پاکستان کو اس طرح نہ دھکیلیں جہاں عوام کا غصہ کنٹرول میں نہ رہے، چور ڈاکو کو اوپر بیٹھا دیا جائے تو انتشار ہوتا ہے، حکمران انتشار چاہتے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے جو کہتے ہیں فاتحہ پڑھ لیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ اگر عمران خان کا بال بھی ٹوٹا تو پھر دیکھیں عوام ان کا کیا حال کرے گی، فاتحہ والی بات کرنے والوں کو شرم نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت آج صرف 15 منٹ چلی ہے، تین رکنی بینچ کے حکم کو پولیس مان نہیں رہی یہ توہین عدالت ہے، چیف جسٹس کو اوپن کورٹ میں بات چیت کرنے کا بھی کہا، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کچھ طے کرلو کیا طے کرلیں؟
ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے کی کوشش کررہے ہیں، پاکستان کا اور پاکستانیوں کا موڈ دیکھ لیں، بانی پی ٹی آئی کو کچھ ہوا تو اندرون و بیرون ملک یہ کہیں نہیں بچیں گیے، بیرون ملک پاکستانیوں کا بھی موڈ دیکھ لیں۔