ہینڈ شیک تنازع: آسٹریلوی کرکٹر نے بھارتیوں کا مزاق بنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
بھارتی کھلاڑیوں کے پاکستانی ٹیم سے ہینڈ شیک نہ کرنے کے معاملے پر تاحال دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ پاکستانی کرکٹرز سے ہاتھ نہ ملانے پر آسٹریلوی کرکٹرز نے بھی بھارتی ٹیم کا مذاق اڑایا ہے۔ ایک ویڈیو میں آسٹریلوی کھلاڑیوں نے اس رویے پر طنز کیا، جو ایشیا کپ 2025 کے دوران سامنے آیا تھا۔
ایشیا کپ کے گروپ میچ کے بعد بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے مصافحہ کرنے سے انکار کیا۔ باقی کھلاڑیوں نے بھی یہی رویہ اپنایا۔ بتایا گیا کہ یہ فیصلہ پہلگام حملوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے باعث کیا گیا۔
تاہم، آسٹریلیا کے کرکٹرز مرد و خواتین دونوں نے اس موقع کو ہنسی مذاق کا رنگ دیتے ہوئے ایک ویڈیو بنائی، جو کایو اسپورٹس کے پلیٹ فارم پر جاری کی گئی۔
ویڈیو میں ایک اینکر نے کہا، ’ہم سب جانتے ہیں کہ بھارت ایک زبردست ٹیم ہے، مگر ہم نے ان کی ایک کمزوری ڈھونڈ لی ہے!‘ دوسرے اینکر نے ہنستے ہوئے کہا، ’انہیں روایتی مصافحہ زیادہ پسند نہیں، تو کیوں نہ ہم کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی انہیں الجھا دیں!‘
اس کے بعد آسٹریلوی کھلاڑی مختلف دلچسپ اور غیر روایتی ’گریٹنگز‘ کے انداز دکھاتے نظر آئے، جیسے ایئر ہائی فائیو، ہیڈ باؤ، اور سلامی کے انداز میں اشارے۔
AUS players pre-India clip mocks India no-handshake theatre vs Pak.
— Maham Fazal (@MahamFazal_) October 14, 2025
بھارتی شائقین نے آسٹریلوی ٹیم کی ویڈیو کو غیر حساس قرار دیا ہے، جبکہ کچھ صارفین نے اسے کرکٹ کے مزاحیہ پہلو کے طور پر سراہا۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ میں ہاتھ نہ ملانے کا معاملہ سیاسی اسباب کی وجہ سے اخباری صفحات میں آیا ہے اور اس پر بڑی بحث ہو رہی ہے۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے ٹیسٹ کپتان پیٹ کمنز کی فٹنس ایک بڑا سوال بنی ہوئی ہے۔ تازہ اسکین رپورٹس کے مطابق ان کی کمر کی انجری مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی، جس کے باعث وہ ممکنہ طور پر 21 نومبر سے شروع ہونے والی ایشز سیریز کا پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکیں گے۔
کمنز نے خود اعتراف کیا، ’میں کوئی حتمی رائے نہیں بتانا چاہوں گا، لیکن لگتا ہے واپسی کے امکانات کم ہیں۔ ابھی کچھ وقت باقی ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔