طلاق کا جشن: ماں نے بیٹے کو دودھ سے غسل دے دیا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
سوشل میڈیا پر بھارت کی ایک منفرد اور متنازع ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں ایک شخص اپنی طلاق کو تقریباً شادی کی طرح مناتے نظر آرہا ہے۔
ویڈیو ڈی کے برادر نامی ڈیجیٹل کریئیٹر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی، اور اب تک اسے تین ملین سے زائد ناظرین نے دیکھا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Biradar DK (@iamdkbiradar)
ویڈیو کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ جشن کی تیاری کے دوران، اس شخص کی والدہ نے ان کا دودھ سے غسل کیا، بالکل ویسی رسم جیسی شادی میں کرتی ہیں، اور اس کے بعد وہ خود کو دلہا جیسا تیار کرکے کیک کاٹا گیا، کیک پر بڑے حروف میں لکھا گیا تھا ’’طلاق مبارک‘‘۔
ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا ہے ’’افسردہ ہونے کے بجائے خوش رہیں، 120 گرام سونا اور 18 لاکھ کیش لینے کے بجائے دیا ہے۔ سنگل ہوں، خوش ہوں، آزاد ہوں، میری زندگی، میرے اصول، سنگل اور خوش‘‘۔
ویڈیو کے تیزی سے وائرل ہوجانے کے باوجود اس میں پیش کی گئی معلومات کی سچائی کی تصدیق کا کوئی معتبر ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اس شخص کا اصل مقام، طلاق کی وجوہات، اور اس کی اہلیہ کی کہانی تک کوئی ٹھوس معلومات دستیاب نہیں۔ تاہم ویڈیو پر صارفین کا مختلف ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا آئینہ دار ہے کہ سماجی میڈیا کا دور کیسے روایتی اقدار کو چیلنج کرتا ہے، اور لوگوں کی ذاتی زندگیوں کو عوامی بحث کا حصہ بنا دیتا ہے، خاص کر جب موضوع شادی، طلاق یا ذاتی جذبات کا ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ