UrduPoint:
2025-11-30@00:46:56 GMT

ایران میں پھانسیوں کے خلاف قیدیوں کا احتجاج اور بھوک ہڑتال

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

ایران میں پھانسیوں کے خلاف قیدیوں کا احتجاج اور بھوک ہڑتال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 15 اکتوبر 2025ء) فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے موصولہ رپور‌ٹوں کے مطابق ایران میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم مختلف تنظیموں نے بدھ 15 اکتوبر کے روز بتایا کہ ایران میں مختلف طرح کے جرائم کے مرتکب افراد کو دی جانے والی موت کی سزاؤں کے واقعات میں حالیہ کئی مہینوں سے جو مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس کے خلاف بیرون ملک اور اندرون ملک سے اٹھنے والی تنقیدی آوازیں اب بلند ہوتی جا رہی ہیں۔

ایرانی شہر کرج کی قزلحصار جیل

اس رجحان کے خلاف اب ملک کی سب سے بڑی جیلوں میں سے ایک میں قیدیوں نے بھی احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے۔ تہران سے کچھ دور کرج نامی شہر کی قزلحصار جیل میں، جس میں قیدیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو رکھا گیا ہے، بہت سے قیدی پیر 13 اکتوبر سے نہ صرف احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے بھوک ہڑتال بھی شروع کر رکھی ہے۔

(جاری ہے)

ایران میں مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے عام طور پر انہیں پھانسی دے دی جاتی ہے۔ ملک میں پھانسیوں کی اس مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے خلاف قزلحصار جیل میں قیدیوں کے اس دوہرے احتجاج کی تصدیق ناروے میں قائم 'ایران ہیومن رائٹس‘ (IHR) اور امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) نے بھی کر دی ہے۔

ایران میں سزائے موت کی منتظر شریفہ محمدی کا کیس؟

ان دونوں تنظیموں نے اپنے دو مختلف بیانات میں کہا کہ قزلحصار جیل میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد پیر 13 اکتوبر سے بھوک ہڑتال پر ہے اور وہ اس جیل کے مختلف کوریڈورز میں اپنے اپنے سیلز کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

احتجاج کی ویڈیو

ایران میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ان دونوں تنظیموں میں سے ایک نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح قیدی اس جیل میں اپنے سیلز کے باہر بیٹھے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں، جن میں ''سزائے موت نامنظور‘ جیسے نعرے بھی شامل ہیں۔

شمالی یورپی ملک ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسے ملنے والی یہ ویڈیو قزلحصار جیل کے اندر قیدیوں کے احتجاج کے دوران بنائی گئی اور اسے اپنے کارکنوں کے ذریعے موصول ہوئی۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق یہ واضح نہیں کہ آج بدھ کے روز کرج کی جیل میں قیدیوں کے احتجاج کی صورت حال کیا ہے۔

عالمی سطح پر سزائے موت پر عمل درآمد میں غیر معمولی اضافہ

'ایران میں مزاحمت کی قومی کونسل‘ یا این سی آر آئی، جو کہ ممنوع قرار دیے گئے مجاہدین خلق (ایم ای کے) نامی گروپ کا سیاسی بازو ہے، کے مطابق کرج کی قزلحصار جیل میں اس احتجاج میں شریک قیدیوں کی تعداد 1500 ہے۔

اس تعداد کی تاہم غیر جانبدارانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں۔ تین اور مجرموں کو دی جانے والی سزائے موت

ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ 'میزان‘ کے مطابق آج بدھ کے روز تین مزید مجرموں کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ یہ مجرم تہران اور اس کے مضافات میں ڈکیتیوں جیسے متعدد مسلح جرائم کے مرتکب ہوئے تھے۔

ایران میں گزشتہ برس 975 افراد کو سزائے موت دی گئی

'میزان‘ کے مطابق ان تینوں مجرموں کو پھانسی دی گئی اور ان کی سزاؤں پر عمل درآمد اس وقت کیا گیا، جب ایک ذیلی عدالت کی طرف سے ان کو سنائی گئی موت کی سزاؤں کی ایرانی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کر دی تھی۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں رواں برس 1000 سے زائد مجرموں کو سنائی گئی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ ابھی سال 2025ء پورا نہیں ہوا، اور پھانسیوں کی یہ تعداد پہلے ہی گزشتہ 15 برسوں کی سب سے بڑی سالانہ تعداد بن چکی ہے۔

.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قزلحصار جیل میں میں قیدیوں ایران میں مجرموں کو سزائے موت کے مطابق کی سزاؤں کے خلاف موت کی

پڑھیں:

کراچی: ہندو برادری کا سوامی نارائن مندر پر بھارتی وزیر دفاع کے خلاف احتجاج

کراچی:

پاکستان ہندو کونسل کے زیر اہتمام تین روزہ احتجاجی سلسلے کے دوسرے مرحلے میں سوامی نارائن مندر پر بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

اس موقع پر پاکستان ہندو کونسل کی اعلیٰ قیادت سمیت سول سوسائٹی، اسٹوڈنٹس اور میڈیا کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

چیف کوآرڈینیٹر کرشن ساگر نے میڈیا کو بتایا کہ سرپرست اعلیٰ پاکستان ہندو کونسل ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کی ہدایت پر آج دوسرے دن بھی سندھ کی ہندو برادری سراپا احتجاج ہے، بھارتی وزیر دفاع کا بیان ہمارے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ دفاع کے اشتعال انگیز بیان کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں، دیہاتوں اور گلی محلوں میں طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کی جانب سے مختلف احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں جن میں سندھی ہندو کمیونٹی نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

مظاہرین نے پاکستان زندہ باد اور مودی سرکار کے خلاف سخت نعرے بازی بھی کی۔ مظاہرین نے بھارتی پردھان منتری سے وزیر دفاع راج ناتھ کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ بھی کردیا۔

 پاکستان ہندو کونسل کے لیڈران کا کہنا تھا کہ راج ناتھ کے اشتعال انگیز بیان پر نریندر مودی کی خاموشی معنیٰ خیز ہے، انہوں نے تین دن کے الٹی میٹم کے اندر متنازع بیان واپس لینے کا مطالبہ دہرایا۔

مظاہرے کے دوران ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھائے شرکاء کا جوش و خروش دیدنی تھا، احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا بچوں کی بھوک بڑھانے والی ادویات کا استعمال محفوظ ہے؟
  • امریکا کی تاریخ کا ایسا دن جس میں سب سے زیادہ سزائے موت دی گئیں
  • وزیراعلیٰ کے پی کو اس وقت تک بھوک ہڑتال کرنی چاہیے جب تک وہ عشق عمران خان میں مرے نہ، رانا ثنا
  • پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث شہرقائد میں بڑی تعداد میں گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنسی گئیں
  • کراچی: ہندو برادری کا سوامی نارائن مندر پر بھارتی وزیر دفاع کے خلاف احتجاج
  • میانمر : فوجی حکومت کا ہزاروں قیدیوں کی رہائی کا اعلان
  • سزائے موت کے بعد شیخ حسینہ ایک اور مشکل میں پھنس گئیں
  • قائدِ عوام یونیورسٹی کی انتظامیہ کےخلاف طلبہ کا زبردست احتجاج،دھرنا دے دیا
  • پنجاب کے بلدیاتی نظام کے خلاف جماعت اسلامی کا 7 دسمبر کو صوبہ گیر احتجاج کا اعلان
  • آسٹریلیا نے ایرانی فوج کو دہشت گردوں کی سرپرست قرار دے دیا