فرد جرم پر نہ میرا دستخط ہے اور نہ ہی میرا انگوٹھا ہے، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ فرد جرم پر نہ میرا دستخط ہے اور نہ ہی میرا انگوٹھا ہے۔
راولپنڈی میں بیرسٹر گوہر کے ہمراہ بانی چیئرمین کی بہنوں نے میڈیا سے گفتگو کی، علیمہ خان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں آج ہمارے وکلا نے دلائل دیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلا نے عدالت سے پیر کی تاریخ مانگی تھی، کل ہائی کورٹ میں القادرکیس کی تاریخ مشکل سے ملی ہے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ عدالت نے پیر کی تاریخ نہیں دی کل کی سماعت رکھی ہے، ہماری نظر میں کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی بے گناہ ثابت ہوچکے ہیں، ہمارا خیال ہے جج صاحب اس کیس میں فیصلہ سنانے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 22 نومبر کے احتجاج کے پیغام پر مجھ پر فرد جرم عائد کی گئی، فرد جرم پر نہ میرا دستخط ہے نہ میرا انگوٹھا ہے، ہم عدالت سے درخواست کریں گے کہ اس پر نظرثانی کریں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں تیسری سزا دی جارہی ہے، قانون کے مطابق ایک ہی طرح کے جرم میں باربار ٹرائل نہیں ہوسکتا، بشری بی بی کے خلاف کیس سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔