اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کیساتھ  کشیدگی سے  دہشت گردی بڑھے گی ، دہشت گردی کا حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے, کے پی میں ہمارامینڈیٹ ہے ،امید ہے حلف کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگا۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، سینیٹر علی ظفر اور بیرسٹر سیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے پی میں تبدیلی کے بعد بانی سے پہلی ملاقات ہوئی، بانی نے تمام ایم پی ایز کا شکریہ ادا کیا اور خوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ بانی نے علی امین گنڈا پور کی خدمات کو بھی سراہا ہے، کے پی میں بانی پی ٹی آئی کا ووٹ ہے، بانی جس کو نامزد کرینگے وہی وزیر اعلی بنیں گے، بانی نے تمام عہدیداروں کو مبارکباد دی ہے، بانی نے کہا ہے حکومت اسی کا حق ہے جس کا مینڈیٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی نے دہشتگردی کا ذکر کیا اور کہا پی ٹی آئی ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے، اس مسئلے کا حل نکالنا ہے، فوج بھی میری ہے، شہداء بھی ہمارے ہیں، عام عوام کا خون نہیں بہنا چاہیے، دہشت گردی کے خاتمے کا حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے۔
بیرسٹر سیف نے بتایا کہان کا کہنا تھا کہ بانی نے کہا دہشت گردی کے خلاف پہلے بھی آپریشنز ہوئے ہیں، بانی نے کہا ہے افغانستان پر حملوں کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے۔اس دوران بیرسٹر گوہر علی خان سے سوال کیا گیا کہ آپ کہہ رہے ہیں نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی سے نمٹنا، ڈی جی آئی ایس پی آر بھی یہی کہہ رہے ہیں تو مسئلہ کہاں ہے؟۔بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ لوگ نیشنل ایکشن پلان کو  پڑھے بغیر کنفیوژن پیدا کررہے ہیں، ہم نے جنوری میں آل پارٹیز کانفرنس کی اسکی پریز ریلیز میں نیشنل ایکشن پلان اور ٹارگیٹڈ آپریشنز کا ذکر ہے۔
صحافی نے سوال کیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ریوائزڈ نیشنل ایکشن پلان سامنے رکھا آپ اسے اتفاق کرتے ہیں؟، بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ  میں نے وہ نکات دیکھے نہیں نہ پڑھے ہیں لیکن ہماری پریس ریلیز میں نیشنل ایکشن پلان کا ذکر ضرور ہے، کنفیوژن پیدا نہیں کرنا چاہیئے، حکمت عملی میں فرق ہے، بانی صرف یہ کہہ رہے ہیں صرف ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں۔
صحافی نے سوال کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تو بانی پی ٹی آئی نے بھی دستخط کئے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ ہم انتشار نہیں چاہتے، بانی نے کہا جنرل باجوہ سے بھی ملک کی خاطر بات چیت کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو افغان وزیر خارجہ کے دورہ بھارت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

بھارتی فوجی قیادت کا من گھڑت، اشتعال انگیز پروپیگنڈہ دہرانا انتہائی تشویشناک ہے،آئی ایس پی آر

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: نیشنل ایکشن پلان بیرسٹر گوہر بانی نے کہا بانی پی ٹی پی ٹی آئی کہ بانی

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان