افغانستان سے کشیدگی کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے‘ سیاسی حل نکالنا چاہیے‘ عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-01-22
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان سے کشیدگی کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے، دہشت گردی کے خاتمے کا حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران عمران خان سے ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، سینیٹر علی ظفر اور بیرسٹر سیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے پی میں تبدیلی کے بعد بانی سے پہلی ملاقات ہوئی، بانی نے تمام ایم پی ایز کا شکریہ ادا کیا اور خوشی کا اظہار کیا‘ بانی نے علی امین گنڈا پور کے کردار کو بھی سراہا ہے، کے پی میں بانی پی ٹی آئی کا ووٹ ہے، بانی جس کو نامزد کریں گے وہی وزیر اعلیٰ بنیں گے، بانی نے تمام عہدیداروں کو مبارکباد دی ہے، بانی پارٹی نے کہا ہے کہ حکومت اسی کا حق ہے جس کا مینڈیٹ ہے، امید ہے حلف کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگا‘ بانی نے دہشت گردی کا ذکر کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے، اس مسئلے کا حل نکالنا ہے، فوج بھی میری ہے، شہدا بھی ہمارے ہیں، عوام کا خون نہیں بہنا چاہیے، دہشت گردی کے خاتمے کا حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے بتایا کہ بانی نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پالیسیز پر تنقید کرتے ہیں، مریدکے واقعے کی بھی مذمت کی اور کہا کے پی کے میں مثالی حکومت قائم کرنی ہے۔بیرسٹر سیف نے بتایا کہ بانی نے ٹی ایل پی کے خلاف تشدد کی مذمت کی، اور کہاکہ ٹی ایل پی کارکنان پر تشددکے خلاف احتجاج کیا جائے‘ ان کی فیملی فوج میں ہے، فوج سے ان کی کوئی دشمنی نہیں، غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے بند ہونے چاہئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں.
بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا
یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔
بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔
افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔