مجھے بھی عمران خان کے برابر سہولیات فراہم کی جائیں: اڈیالہ جیل کے قیدی کا عدالت سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل کے ایک قیدی نے درخواست دائر کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے برابر سہولیات فراہم کرنے کی استدعا کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست گزار محمد عرفان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ قتل کے مقدمے (دفعہ 302) میں 25 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں قید عمران خان 73 برس کے ہوگئے، ’تم جیو ہزاروں سال، ہر سال کے دن ہوں 10 ہزار‘
انہوں نے مؤقف پیش کیا کہ جیل حکام کو متعدد مرتبہ سپیریئر کلاس سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کی، مگر ہر بار ان کی درخواست کو نظرانداز کر دیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں خصوصی اور اعلیٰ معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ دیگر قیدیوں کو ان جیسا درجہ نہیں دیا جاتا۔
محمد عرفان کے مطابق عمران خان کو نہ صرف بہتر رہائشی انتظامات میسر ہیں بلکہ انہیں باقاعدگی سے ملاقاتوں کی اجازت بھی حاصل ہے، جو کہ دیگر قیدیوں کو میسر نہیں۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کے تحت انہیں بھی وہی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے جو بانی پی ٹی آئی عمران خان کو دی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے 2 روم کولر اڈیالہ جیل پہنچا دیے گئے
درخواست میں سیکریٹری داخلہ، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، چیف کمشنر اسلام آباد اور ہوم ڈپارٹمنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اڈیالہ جیل بانی پی ٹی آئی سہولیات کی فراہمی عمران خان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل بانی پی ٹی ا ئی سہولیات کی فراہمی وی نیوز سہولیات فراہم اڈیالہ جیل بانی پی ٹی
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز