’سہیل آفریدی میرا اوپننگ بلے باز ہے‘، بانی پی ٹی آئی عمران خان کا وزیراعلیٰ خیبرپنختوا کے لیے خصوصی پیغام
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے بدھ کے روز ایکس پر جاری بیان میں خیبر پختونخوا میں حکومت کی پرامن منتقلی پر صوبائی اسمبلی کے ارکان کو مبارکباد دی ہے۔
عمران خان نے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے کہا کہ وہ ان کے اوپننگ بیٹسمین ہیں، جنہیں پُراعتماد انداز میں کھیلنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عہدے کا حلف اٹھا لیا
بیان میں عمران خان نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، اس کے کارکنوں کو محض اختلافِ رائے کی بنیاد پر ’غدار یا ریاست دشمن‘ قرار دینا خطرناک رجحان ہے۔
’سیاسی اختلاف کو ملک دشمنی سے جوڑنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے، میں ہر اس پالیسی کی مخالفت کرتا رہا ہوں جو عوام یا پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو، اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔‘
عمران خان نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا کی عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے، لہٰذا ان کی حکومت عوام کو جوابدہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں۔
عمران خان نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ علی امین نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے 3 بار استعفیٰ دیا۔
مزید پڑھیں:
’جو پارٹی نظم و ضبط کی اعلیٰ مثال ہے، یہ ثابت کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا نظریہ مضبوط ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کی فوج سے کوئی دشمنی نہیں، کیونکہ ’فوج میری اپنی ہے جیسے یہ ملک اور اس کے عوام میرے اپنے ہیں۔
عمران خان نے بتایا کہ ان کے خاندان کے کئی افراد فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں، اور 1965 کی جنگ کے دوران زمان پارک کے تقریباً ہر گھر سے جوان محاذِ جنگ پر موجود تھے۔
مزید پڑھیں:
عمران خان نے دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فوجی آپریشنز سے دہشت گردی ختم نہیں کی جا سکی، ان کارروائیوں میں شہری بھی مارے جاتے ہیں اور بے گھر ہوتے ہیں۔
’مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ سیاسی مشاورت سے کیے جائیں۔‘
انہوں نے ہدایت دی کہ خیبر پختونخوا کی نئی حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول قبائلی عمائدین، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور افغان حکام سے مشاورت کرے اور ایک جامع انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی تشکیل دے تاکہ پائیدار امن اور معاشی استحکام حاصل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:
عمران خان نے مریدکے میں تحریکِ لبیک کارکنوں پر حالیہ تشدد کی بھی شدید مذمت کی، انہوں نے کہا کہ بے گناہ اور نہتے شہریوں پر گولیاں چلانا ناقابلِ قبول ہے۔
’میں مریدکے سانحے میں ہونے والی فائرنگ اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید مذمت کرتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ جو ظلم تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر ڈھایا گیا، وہی ناانصافی پی ٹی آئی کے کارکنوں پر گزشتہ 3 برس سے ہو رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیک ہولڈرز خیبر پختونخوا خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مریدکے.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیک ہولڈرز خیبر پختونخوا خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی مریدکے خیبر پختونخوا پی ٹی آئی انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ
راولپنڈی میں خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا مشاورتی اجلاس کے بعد ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ نمازِ فجر کے فوراً بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان علامہ ناصر عباس کی آمد اور اُن سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ اجلاس میں علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی، سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی نے شرکت کی، جس میں فیصلہ ہوا کہ کارکنوں کو منگل کے روز دوبارہ احتجاج کے لیے کال دی جائے گی جبکہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی جائے گی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بھی بھرپور احتجاج کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مشاورت کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس دھرنے کے مقام سے روانہ ہوگئے جبکہ وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی سرد موسم میں سڑک کنارے آگ کے پاس بیٹھے رہے۔
محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ دھرنا کسی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھا بلکہ وزیرِاعلیٰ کے اس یقین کے بعد سامنے آیا کہ عدالتیں ایک صوبائی سربراہ کو اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت دیں گی، مگر یہاں شرافت کی زبان سمجھنے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے ایک جمہوری پشتون کی حیثیت سے دھرنا دیا ہے اور یہ ممکنہ طور پر عدالتی حکم تک جاری رہے گا۔ انہوں نے حکمرانوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’پانچ ہزار تین سو ارب کے چور‘‘ اور ’’مینڈیٹ چور‘‘ قرار دیا اور پی ٹی آئی قیادت کو تجویز دی کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات کرانی ہے تو عوامی طاقت کے ذریعے پارلیمنٹ اور سینیٹ کی کارروائی روک دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ بانی چیئرمین جیل میں ہیں اور ہم اسمبلیوں میں کارروائی چلنے دیں۔
وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق عدالت کے واضح حکم کے باوجود نہ انہیں اور نہ دیگر رہنماؤں کو بانی چیئرمین سے ملنے دیا گیا، جبکہ پہلے ان کی بہنوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا گیا اور انہیں اڈیالہ روڈ پر بالوں سے پکڑ کر بے عزت کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب بانی چیئرمین کو دباؤ میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور بشریٰ بی بی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ماضی میں لندن جانے والوں سے درجنوں لوگ ملاقات کرتے تھے۔ انہوں نے عدلیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں اپنے ہی احکامات پر عملدرآمد نہیں کرواتیں تو ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہو جائے گا اور ہر کوئی اپنا انصاف خود کرنے لگے گا جس سے ملک کو شدید نقصان پہنچے گا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ فجر کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے اور انہیں بتائیں گے کہ تین ججز پہلے ہی ملاقات کی اجازت سے متعلق واضح حکم دے چکے ہیں۔