دریائے برہم پترا پر چینی ڈیم کی تعمیر سے بھارت پریشان، 77 ارب ڈالر کا پن بجلی منصوبہ پیش کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دریائے برہم پترا پر چینی ڈیم کی تعمیر سے پریشان بھارت نے 77 ارب ڈالر کا پن بجلی منصوبہ پیش کر دیا۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی پاور پلاننگ اتھارٹی نے2047 تک دریائے برہم پترا سے 76 گیگاواٹ سے زیادہ پن بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے اور اس صلاحیت کی منتقلی اور ٹرانسمیشن پر 77 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔
بھارت کی سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی نے اس منصوبے کی تفصیلات جاری کر دیں، رپورٹ میں سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی نے کہا کہ یہ منصوبہ شمال مشرقی ریاستوں میں دریا کے پانی کے 12 ذیلی ذخائر میں 208 بڑے ہائیڈرو پراجیکٹس کا احاطہ کرتا ہے جس میں 64.
بھارت کو خدشہ ہے کہ ارونا چل پردیش میں داخل ہونے سے پہلے دریا کے بالائی راستے یارلنگ زانگبو پر ایک چینی ڈیم اس کے بہاؤ کو 85 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔
برہم پترا کا طاس اروناچل پردیش، آسام، سکم، میزورم، میگھالیہ، منی پور، ناگالینڈ اور مغربی بنگال کے کچھ حصوں پر پھیلا ہوا ہے اور بھارت کی غیر استعمال شدہ ہائیڈرو صلاحیت کا 80 فیصد سے زیادہ رکھتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف ریاست اروناچل پردیش میں اس کے پانی سے 52.2 گیگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے پر 2035 تک 1.91 کھرب انڈین روپے درکار ہوں گے جبکہ دوسرے مرحلے پر 4.52 کھرب روپے لاگت آئے گی۔
سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی کے منصوبے میں کچھ پراجیکٹ پہلے سے ہی پائپ لائن میں ہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی دریائے برہم پترا
پڑھیں:
بلوچستان میں سڑک تعمیر کیلئے66 ارب روپے اکٹھے کرلئے،علی پرویز ملک
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی بلوچستان میں سڑک کی تعمیر کے لیے لگائی گئی تھی، اور اب تک اس مد میں تقریباً 66 ارب روپے اکٹھے کیے جا چکے ہیں۔
سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم نے قیمتوں پر عائد لیوی سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 7 سے 8 روپے فی لیٹر سڑک کی تعمیر کے لیے عائد کیے گئے تھے، اور اس رقم کو جمع کرکے پلاننگ کمیشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ستمبر تک اکٹھی ہونے والی رقم تقریباً 66 ارب روپے بنتی ہے جبکہ منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 200 ارب روپے تک پہنچے گی۔ ان کے مطابق یہ لیوی اب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شامل ہے اور رقم کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ ستمبر تک کے اعداد و شمار پیش کردیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ کا ڈیٹا بھی فراہم کردیا جائے گا۔