پاکستان نے بھارت کیلئے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کر دی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاکستان ائیر پورٹس اتھارٹی نے بندش میں 23 نومبر 2025 تک توسیع کر دی ہے۔ بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع حکومتی ہدایت پر کی گئی۔ پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی نے فضائی حدود کی بندش میں توسیع کا نیا نوٹم جاری کر دیا ہے۔ پاکستان نے رواں سال 23 اپریل سے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی مسافر و جنگی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع کر دی گئی ہے۔ پاکستان ائیر پورٹس اتھارٹی نے بندش میں 23 نومبر 2025 تک توسیع کر دی ہے۔ بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع حکومتی ہدایت پر کی گئی۔ پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی نے فضائی حدود کی بندش میں توسیع کا نیا نوٹم جاری کر دیا ہے۔ پاکستان نے رواں سال 23 اپریل سے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔ فضائی حدود کی بندش سے بھارت کے طیاروں کو لمبا چکر کاٹ کر جانے سے مالی نقصان ہو رہا ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فضائی حدود کی بندش میں توسیع پورٹس اتھارٹی نے توسیع کر دی
پڑھیں:
بھارت افغان کی شدت پسند پالیسیاں عالمی امن کیلئے شدید خطرہ
بھارت کی زیر سرپرستی افغان سرزمین سے خطے کے دیگر ممالک میں دہشتگردی عالمی امن کیلئے خطرہ بن گئی ہے۔
گزشتہ دنوں عالمی سطح اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی ، امریکہ میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کی ایک کڑی ہے۔
پاکستان کی جانب سے افغانستان کا بطور دہشتگردوں کی آماجگاہ بننے کے حوالے سے متعدد بار عندیہ دیا گیا ہے۔ یورپی یونین، ڈنمارک اور دیگر ممالک بھی افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔
اقوام متحدہ، سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کیلئے شدید خطرہ ہے۔
افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اکتوبر 2025ء میں بھارت کا دورہ کیا اور متعدد معاہدے کئے۔ جب افغان وزیر خارجہ دورہ بھارت پر تھے تو عین اسی وقت پاکستان پر افغانستان کی بلااشتعال جارحیت بھی کی گئی۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت اور افغانستان اب ایک دوسرے کے ملک میں اپنی سفارت خانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔