data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سیتا پور(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست اتر پردیش میں بیوی کو ناگن بتانے والا شخص دوسری شادی کا خواہشمند نکلا،بیوی نے بھانڈا پھوڑ دیا۔گزشتہ روز معراج نامی شخص نے ایک غیر معمولی شکایت کے ساتھ سیتا پور ضلع مجسٹریٹ سے رابطہ کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ رات کو خوف سے سو نہیں سکتا کیونکہ اس کی بیوی “ناگن “بن جاتی ہے۔بیوی نے ایک ویڈیو میں شوہر کی جانب سے جہیز کے لیے ہراساں کیے جانے کا دعویٰ کیا۔ محمود آباد تحصیل کے لودھاسا گاؤں سے تعلق رکھنے والے شکایت کنندہ معراج نے 4 اکتوبر کو ایک سمدھن دیوس (عوامی شکایات کے ازالے کے دن) کے دوران ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ابھیشک آنند کے سامنے اپنی مشکل بیان کی۔معراج نے الزام لگایا کہ اس کی بیوی نسیمن ذہنی طور پر غیر مستحکم ہے اور راتوں میں ناگن ہونے کا بہانہ بنا کر اسے ہنساتی اور ڈراتی رہتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی بار بار درخواستوں کے باوجود، مقامی پولیس اس معاملے میں کارروائی کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے وہ مدد کے لیے ضلع انتظامیہ سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئے۔ضلع مجسٹریٹ نے پولیس کو معاملے میں کارروائی کرنے کہا۔شکایت کے ازالے کے پروگرام میں موجود اہلکار مبینہ طور پر اس غیر معمولی شکایت سے حیران رہ گئے، یہاں تک کہ ضلع مجسٹریٹ نے پولیس کو معاملے کو دیکھنے اور مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ہمیں ایک شکایت موصول ہوئی ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔بعد ازاں معراج کی اہلیہ نسیمن کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ اس کا شوہر اسے جہیز کے لیے ہراساں کرتا ہے اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ نسیمن نے الزام لگایا کہ معراج اپنی دوسری شادی کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے۔نسیمْن نے اس پر جہیز کے لیے اسے ہراساں کرنے کا بھی الزام لگایا۔ نسیمْن مبینہ طور پر چار ماہ کی حاملہ ہے اور اس نے مزید یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ معراج اس کے طبی یا کھانے کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے ہے اور

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا