Islam Times:
2026-06-03@00:01:58 GMT

غزہ میں جنگ بند ہو گئی، حماس کی تصدیق

اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT

غزہ میں جنگ بند ہو گئی، حماس کی تصدیق

اپنے ایک جاری بیان میں حماس کا کہنا تھا کہ ہم ڈونلڈ ٹرامپ، معاہدے کی ضمانت دینے والے ممالک اور مختلف عرب، اسلامی و بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صیہونی رژیم کو معاہدے کی مکمل ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کریں۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" نے جمعرات کی صبح غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق ہونے کی تصدیق کر دی۔ اس بارے میں حماس نے ایک بیان جاری کیا، جس میں اس تحریک نے کہا کہ فلسطینی قوم کے خلاف تباہ کن جنگ اور غزہ کی پٹی سے قبضے کے خاتمے کے لئے شرم الشیخ میں ڈونلڈ ٹرامپ کی تجاویز پر حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے درمیان ذمہ دارانہ اور سنجیدہ بات چیت کے بعد، ہم ایک ایسے معاہدے کے اعلان کرتے ہیں جس کے تحت غزہ کے خلاف جنگ بند ہو گی، قبضہ ختم ہو گا، امدادی سامان کی ترسیل ہو گی اور قیدیوں کا تبادلہ ہو گا۔ حماس نے مزید کہا کہ ہم قطر، مصر اور ترکیہ میں اپنے ثالث بھائیوں کی کوششوں کو بہت سراہتے ہیں۔ ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرامپ کی ان کوششوں کی بھی تعریف کرتے ہیں جن کا مقصد جنگ کو مستقل طور پر روکنا اور غزہ پٹی سے مکمل طور پر قبضہ ختم کرنا ہے۔

حماس نے کہا کہ ہم ڈونلڈ ٹرامپ، معاہدے کی ضمانت دینے والے ممالک اور مختلف عرب، اسلامی و بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صیہونی رژیم کو معاہدے کی مکمل ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کریں۔ مذکورہ عناصر اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسرائیل معاہدے کی شقوں پر عملدرآمد کرے یا اس میں تاخیر نہ کرے۔ حماس نے مزید کہا کہ ہم اپنی عظیم قوم کو سلام پیش کرتے ہیں جو غزہ کی پٹی، یروشلم، مغربی کنارے حتیٰ وطن کے اندر یا باہر بے مثال فخر، بہادری اور شرافت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ جو فاشسٹ قبضہ کاروں کے ان منصوبوں کا مقابلہ کرتی ہے جو انہیں اور ان کے قومی حقوق کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان قربانیوں نے قابض صیہونیوں کے تسلط پسندانہ اور جبری نقل مکانی کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرامپ معاہدے کی کرتے ہیں کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید