ٹرانسپرینسی ایکٹ پر دستخط، کیا ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاسی دباؤ کے بعد ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت محکمہ انصاف کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام دستاویزات اور تحقیقات کی تفصیلات 30 دن کے اندر عوام کے لیے قابل تلاش اور ڈاؤن لوڈ فارمیٹ میں جاری کرے۔ یہ بل سابقہ ملزم جنسی مجرم جیفری ایپ اسٹائن سے متعلق تمام معلومات کو شفاف بنانے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پرنس اینڈریو کے جرائم پیشہ لوگوں سے تعلقات اور جنسی زیادتیاں، شاہی محل میں تنازع شدت اختیار کر گیا
صدر ٹرمپ نے بل پر دستخط کا اعلان کرتے ہوئے ڈیموکریٹس پر تنقید کی کہ وہ اس معاملے کو استعمال کر کے اپنی سیاسی توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ جلد ہی ان ڈیموکریٹس اور ان کے ایپسٹین سے تعلقات کی حقیقت سامنے آئے، کیونکہ میں نے ابھی یہ بل سائن کردیا ہے۔
ایپ اسٹائن کی جائیداد سے تقریباً 20 ہزار صفحات کی دستاویزات پہلے ہی جاری کی جا چکی ہیں، جن میں ٹرمپ کا ذکر بھی موجود ہے۔ ان میں ایپ اسٹائن کے 2018 کے پیغامات شامل تھے، جن میں وہ لکھتا ہے، میں وہ ہوں جو اسے ختم کر سکتا ہوں اور میں جانتا ہوں ڈونلڈ ٹرمپ کتنے گندے ہیں۔
اب محکمہ انصاف کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایپسٹین کی جیل میں موت کی تحقیقات سمیت تمام متعلقہ دستاویزات عوام کے سامنے پیش کرے، البتہ جاری وفاقی تحقیقات میں متاثرین کے تحفظ کے لیے کچھ معلومات پر ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم معلومات کو سیاسی یا ذاتی شرمندگی کے بہانے چھپایا نہیں جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی کانگریس ایپسٹین فائلز جاری کرنے پر متفق، ٹرمپ نے بھی اعتراض ختم کردیا
ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا کہ صدر کو بل پر دستخط کے بعد اس کا درست اور مکمل نفاذ کرنا ہوگا، اور کوئی “مزاحیہ بہانے” استعمال نہیں کیے جا سکتے تاکہ کچھ دستاویزات چھپی رہیں۔
ایپسٹین جو برسوں سے کاروباری اور سیاسی حلقوں میں سرگرم رہا، پر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے ساتھ جنسی استحصال کا الزام تھا۔ ٹرمپ اور ان کے حامیوں نے الزام لگایا کہ طاقتور ڈیموکریٹس اس کیس سے بچ گئے، جبکہ خود ٹرمپ ایپ اسٹائن کے طویل عرصے کے جاننے والے تھے، جس سے سوالات پیدا ہوئے کہ انہیں اس کی سرگرمیوں کا کتنا علم تھا۔ اس سارے معاملے نے امریکی عوام کے درمیان انصاف کے نظام پر اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔