سعودی عرب: آرامکو کا توانائی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں توسیع کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو نے اعلان کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ایپلی کیشنز کے دائرے کو مزید وسعت دے رہی ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی قیادت میں خطہ امن کی نئی سمت کی جانب گامزن
آرامکو کے صدر اور سی ای او امین الناصر کے مطابق، کمپنی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے نئے ذرائع توانائی میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہی ہے اور گیس کے شعبے میں کام کی رفتار مزید تیز کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ارامکو تیل کے شعبے میں اپنی عالمی قیادت برقرار رکھتے ہوئے کیمیکل انڈسٹری کو طویل المدتی ترقی کے لیے ایک اسٹریٹجک میدان تصور کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کے 6 علاقوں میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ
ماہرین کے مطابق، ارامکو کا یہ اقدام سعودی وژن 2030 کے اہداف کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار توانائی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو مملکت کی معاشی تنوع کی پالیسی کو بھی تقویت دے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرامکو سعودی عرب مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رامکو مصنوعی ذہانت ا رامکو
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔